مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 78
78 دن غائب رہے سولہویں دن جامعہ مسجد پہنچے تو جمعہ کا دن تھا اور مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: - ” جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے۔جو نہیں جانتا اس کو بتلاتا ہوں کہ میں ابوالحسن اشعری، میں معتزلی تھا۔فلاں فلاں عقیدہ کا قائل تھا، اب تو بہ کرتا ہوں۔اپنے سابقہ خیالات سے باز آتا ہوں۔آج سے میرا کام معتزلہ کی تردید اور ان کی کمزوریوں اور غلطیوں کا اظہار ہے۔تجدیدی کارنامے معتزلہ کے عقائد آپ کے دور کا عظیم فتنہ تھا اور آپ معتزلہ کی اصلاح کو فرض عین اور جہاد کبیر خیال کرتے تھے۔معتزلہ کی مجالس میں جا کر اور ان کے ممتاز لوگوں سے مل کر ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے اور جب کسی نے اعتراض کیا کہ آپ خود اہل بدعت سے کیوں ملتے ہیں حالانکہ ان سے مقاطعہ کا حکم ہے۔آپ نے فرمایا کیا کروں ؟ وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ان میں سے کوئی حاکم شہر ہے اور کوئی قاضی ہے۔وہ اپنے عہدے کی وجاہت کے باعث میرے پاس آنے سے رہے۔اگر میں بھی ان کے پاس نہ گیا تو حق کیسے ظاہر ہو گا اور انہیں کیسے معلوم ہوگا کہ اہلسنت کا مددگار اور دلائل سے ان کے مذہب کو ثابت کرنے والا بھی کوئی ہے۔لاء آپ معتزلیوں کے سوالات کے جوابات آسانی سے دیتے تھے جیسے کوئی کہنہ مشق استاد طفلانِ مکتب کے سوالات حل کر رہا ہو۔عبداللہ بن حنیف بیان کرتے ہیں:۔میں شیراز سے بصرہ آیا تو مجھے ابوالحسن کی زیارت کا شوق تھا۔لوگوں نے مجھے ان کا پتہ دیا۔میں آیا تو وہ ایک مجلس مناظرہ میں تھے۔وہاں معتزلہ کی ایک جماعت تھی اور لوگ گفتگو کر رہے تھے۔جب یہ لوگ خاموش ہوئے اور انہوں نے اپنی بات پوری کر لی تو آپ نے گفتگو شروع کی۔ابوالحسن اشعری نے ایک ایک سے مخاطب ہو کر کہا یہ تم نے یہ کہا تھا اور اس کا جواب یہ ہے اور تم نے یہ اعتراض کیا تھا اس کا یہ جواب ہے۔یہاں تک کہ انہوں نے سب کےسوالات کا جواب دے دیا۔۱۲