مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 79
79 ابو بکر بن الصیر فی کہتے ہیں :- معتزلہ نے بہت سر اُٹھایا تھا۔ان کے مقابلہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے امام ابوالحسن اشعری کو پیدا کر دیا۔انہوں نے معتزلہ کو اپنی ذہانت و استدلال سے بند کر دیا اور ان کے اس کارنامے کی وجہ سے لوگوں نے انہیں مسجد دین و محافظین سنت میں شمار کیا ہے اور ابوبکر اسماعیلی جیسے بعض اہل نظر نے تجدید دین اور حفاظت شریعت کے سلسلہ میں امام احمد کے بعد ان کا نام لیا ہے۔آپ کا ایک بڑا تجدیدی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے عقلی دلائل سے عقائد و احکام کی حکمتیں بیان کیں اور ان کی برتری ثابت کی۔اس بارہ میں سید سلیمان ندوی رقمطراز ہیں :- ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے کتاب وسنت کے حقائق اور اہلسنت کے عقائد کو عقلی دلائل سے ثابت کیا اور معتزلہ اور دوسرے فرقوں سے ان کے ایک ایک مسئلہ اور ایک ایک عقیدہ میں ان کی زبان اور اصطلاحات میں بحث کر کے عقائد اہلسنت کی صداقت اور ان کا منقول اور معقول کے مطابق ہونا واضح کیا۔۳۔امام اشعری احمد بن حنبل کی طرح ” قدامت پسند ہیں یعنی کتاب وسنت پر عامل ہیں۔البتہ اس کے ساتھ عقلی دلائل بھی تلاش کرتے ہیں ، جہاں صرف عقلی دلیل بن سکتی ہو وہاں بے دھڑک وہی استعمال کرتے ہیں۔آج کل اشاعرہ جو صرف معقولات پر حصر کئے ہوئے ہیں یہ اشعری کی طبع سے کوسوں دور تھا۔چنانچہ ان کی تعلیم کیا تھی اس کا اندازہ اس حوالے سے بخوبی ہو جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں:- قولنا الذي نقول به و ديانتنا الذى ندين بها التمسك بكتاب ربنا عز وجل وبسنة نبينا عليه السلام وما روى عن الصحابة والتابعين وائمة الحدیث و نحن بذالک معتصمون و بما كان يقول به ابوعبدالله احمد بن حنبل نضر الله وجهه ی۔جو بات ہم کہتے ہیں یا جو دین ہم اختیار کرتے ہیں وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اور اقوال صحابہ اور تابعین اور آئمہ الحدیث کو مضبوطی سے پکڑنا ہے ہم اس پر اور جو امام احمد بن حنبل ( خدا آپ کا چہرہ شاداب رکھے ) کہیں اس پر مضبوطی سے قائم ہیں۔