مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 77
77 ”میری حیثیت امام ابوالحسن اشعری کے سامنے ایسی تھی جیسے سمندر کے پہلو میں قطرہ - 1 آپ کے ایک خادم احمد بن علی فقیہہ جس نے ہیں برس آپ کی خدمت کی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالحسن اشعری سے زیادہ عفیف اور پارسا اور ان سے بڑھ کر امور دنیا میں احتیاط برتنے والا اور امور آخرت میں شاداں و فرحاں اور کسی شخص کو نہیں پایا۔وفات ۱۳۲۴ھ میں آپ کا انتقال ہوا اور بغداد میں دفن ہوئے۔آپ کی وفات پر کہا گیا کہ آج ناصر سنت کا انتقال ہو گیا“۔2 اعتزالی دور آپ کی والدہ نے خاوند کی وفات کے بعد ابو علی جبائی سے نکاح کر لیا جو اپنے وقت کے معتزلہ کے امام تھے۔شیخ ابوالحسن جبائی کی آغوش تربیت میں پرورش پائی۔ان کے مایہ ناز شاگرد ہوئے اور جلد ہی ان کے معتمد اور دست راست بن گئے۔ابوالحسن کو لحن داؤ دی ودیعت ہوا تھا۔حاضر جواب بھی تھے اس لیے بہت جلد وہ سر حلقہ اور مجالس بحث کے صدرنشین ہو گئے اور چالیس برس معتزلہ کی ترویج اور اشاعت میں گزار دیے۔اعتزال سے علیحدگی خدا کی قدرت دیکھئے وہی شخص جو چالیس برس تک معتزلہ کا سرگرم مبلغ تھا خدا نے اسے ہی سنت کے احیاء کیلئے منتخب کیا۔چنانچہ آپ کو بار بار رسول کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ نے بار بار یہی تاکید کی کہ اعتزال کی روش کو چھوڑ کر میرے سیدھے سادھے منہاج کی تائید کیلئے اُٹھ کھڑے ہو جو کتاب اللہ سنت اور سلف کی روایات پر مبنی ہے۔2 چنانچہ چالیس سال کے بعد آپ کی زندگی کا ایک تاریخی موڑ آیا جب آپ کی طبیعت معتزلہ کی تاویلوں سے متنفر ہونے لگی۔انہوں نے محسوس کیا کہ یہ اپنے مذہب کی بیچ ہے۔حقیقت وہی ہے جو صحابہ اور سلف صالحین کا مسلک تھا۔چنانچہ جب طبیعت میں جولانی بڑھی تو گھر سے بھاگ گئے۔پندرہ