مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 319 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 319

319 آدم کے واقعہ کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ملائکہ نے خدا تعالیٰ پر اعتراض کیا کہ اسے کیوں پیدا کیا گیا ہے۔اسی طرح خیال کیا جاتا تھا کہ بعض ملائکہ دنیا میں آئے اور ایک کنچنی پر عاشق ہو گئے۔آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں سزادی اور وہ چاہ بابل میں اب تک قید ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اتہامات سے ملائکہ کو پاک کیا اور بتایا کہ ملائکہ تو قانون قدرت کی پہلی زنجیر ہیں۔ان میں خیر وشر کے اختیار کرنے کی قدرت ہی حاصل نہیں۔انہیں تو جو کچھ خدا تعالیٰ کہتا ہے کرتے ہیں۔نہ اس کے خلاف ایک بالشت ادھر ہو سکتے ہیں نہ ادھر۔(4) چوتھی غلطی یہ لگ رہی تھی کہ ملائکہ کو ایک فضول سا وجود سمجھا جاتا تھا۔جیسے کہ بڑے بڑے بادشاہ اپنے گرد ایک حلقہ آدمیوں کا رکھتے ہیں۔گویا خدا تعالیٰ نے بھی اسی طرح انہیں رکھا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ ایسا نہیں بلکہ سب کا رخانہ عالم انہیں پر چل رہا ہے۔پھر ان کا کام انسانوں کے دلوں میں نیک تحریکات کرنا بھی ہے اور انسان ان سے تعلقات پیدا کر کے روحانی علوم میں ترقی کرسکتا ہے۔(انوار العلوم جلد 10 صفحہ 163-161) انبیاء کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انبیاء کے متعلق جو غلطیاں پھیلی ہوئی تھیں ان کو دور کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں :- (1) پہلی غلط فہمی انبیاء کے متعلق یہ تھی کہ مسلمانوں میں سے سنی سوائے اولیاء اللہ اور صوفیاء کے گروہ اور ان کے متعلقین کی عصمت انبیاء کے مخالف تھے۔بعض تو امکانات کی حد تک ہی رہتے۔لیکن بہت سے عملاً انبیاء کی طرف گناہ منسوب کرتے اور اس میں عیب محسوس نہ کرتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کہتے تھے کہ انہوں نے تین جھوٹ بولے تھے۔حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق کہتے تھے کہ انہوں نے چوری کی تھی۔حضرت الیاس علیہ السلام کی نسبت کہتے تھے کہ وہ خدا سے ناراض ہو گئے تھے۔داؤد علیہ السلام کی نسبت کہتے تھے کہ وہ کسی غیر کی بیوی پر عاشق ہوگئے تھے اور اس کے حصول کیلئے انہوں نے خاوند کو جنگ پر بھجوا کر مروادیا۔یہ مرض یہاں تک ترقی