مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 316
316 (14) چودھواں نقص لوگوں میں یہ پیدا ہوگیا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم ایک مجمل کتاب ہے۔جس میں موٹی موٹی باتیں بیان کی گئی ہیں۔اخلاقی ، تمدنی ، معاشرتی باتوں کی تفصیل اس میں نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق یہ دعوی کیا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے جس نے روحانیت، معادیات، تمدنیات، سیاسیات اور اخلاقیات کے متعلق جتنے امور روحانی ترقی کیلئے ضروری ہیں، وہ سارے کے سارے بیان کر دیئے ہیں اور فرمایا میں یہ سب باتیں نکال کر دکھانے کیلئے تیار ہوں۔(15) پندرھویں غلطی یہ لوگوں کوگی ہوئی تھی کہ قرآن کریم کی بعض تعلیمیں وقتی اور عرب کی حالت اور اس زمانہ کے مطابق تھیں۔اب ان میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔چنانچہ سید امیر علی جیسے لوگوں نے لکھ دیا کہ فرشتوں کا اعتقاد اور کثرت ازدواج کی اجازت ایسی ہی باتیں ہیں۔دراصل یہ لوگ عیسائیوں کے اعتراضوں سے ڈرتے تھے اور اس ڈر کی وجہ سے لکھ دیا کہ یہ باتیں عربوں کیلئے تھیں ہمارے لئے نہیں ہیں۔اب ان کو چھوڑ ا جا سکتا ہے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: یہ بات غلط ہے۔قرآن کریم کے سارے احکام صحیح اور کوئی حکم وقتی نہیں۔سوا اس کے جس کے متعلق قرآن کریم نے خود بتا دیا ہو کہ یہ فلاں وقت اور فلاں موقع کیلئے حکم ہے۔آپ نے بتایا کہ رسول کریم ﷺ آخری شریعت لانے والے تھے۔اس لئے سب تعلہ قرآن کریم میں موجود ہیں اور ہر زمانہ کیلئے ہیں۔ہاں ان تعلیموں پر عمل کرنے کے اوقات خود اس نے بتا دیئے ہیں اور قرآن کریم کی کوئی ایسی تعلیم نہیں ہے جس پر عمل ہمیشہ کیلئے بند ہو یا ایسی کوئی تعلیم نہیں ہے جس پر کوئی عمل نہ کر سکے اور تفصیلاً آپ نے ان اعتراضوں کو دور کیا جو ملائکہ اور کثرت ازدواج اور ایسے ہی دوسرے مسائل پر پڑتے تھے۔(16) سولہویں غلطی لوگوں کو یہ لگ رہی تھی کہ وہ قرآن کریم کو ایک متبرک کتاب قرار دیتے تھے اور روز مرہ کام آنے والی کتاب نہیں سمجھتے تھے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی تلاوت اور اس کے مطالب پر غور کرنے کی طرف سے وہ بالکل بے پرواہ ہو گئے تھے۔خوبصورت جُز دانوں میں لپیٹ کر قرآن کریم کو رکھ دینا یا خالی لفظ پڑھ لینا کافی سمجھتے تھے۔کہیں قرآن کریم کا درس نہ ہوتا تھا حتی کہ اس