مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 317 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 317

317 کا ترجمہ تک نہیں پڑھایا جا تا تھا۔ترجمہ کیلئے سارا دارومدار تفسیروں پر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی اس زمانہ میں وہ شخص ہوئے ہیں جنہوں نے قرآن کو قرآن کر کے پیش کیا اور توجہ دلائی کہ قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہیے۔آپ سے پہلے قرآن کا کام صرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ جھوٹی قسمیں کھانے کیلئے استعمال کیا جائے یا مر دوں پر پڑھا جائے۔یا اچھا خوبصورت غلاف چڑھا کر طاق میں رکھ دیا جائے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ شاعروں نے خدا تعالیٰ کی حمد اور رسول کریم ﷺ کی نعت میں تو بے شمار نظمیں لکھیں ہیں مگر قرآن کریم کی تعریف میں کسی نے بھی کوئی نظم نہیں لکھی۔پہلے انسان حضرت مرزا صاحب ہی تھے جنہوں نے قرآن کی تعریف میں نظم لکھی اور فرمایا جمال و حسن قرآن نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے لوگوں نے رسول کریم ﷺ کی نعت پڑھنی ہوتی ہے تو وہ انہیں مل جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی حمد کے شعر پڑھنے ہوتے ہیں تو وہ انہیں مل جاتے ہیں مگر قرآن کریم کی تعریف میں انہیں نظم نہیں ملتی اور دشمن سے دشمن بھی حضرت مسیح موعود کے اشعار پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے کہ مرزا صاحب خود تو بُرے تھے مگر یہ شعر انہوں نے اچھے کہے ہیں۔آپ کے کلام کو پڑھنے لگ جاتے ہیں اور اس طرح ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحیح معنوں میں قرآن کریم کو ثریا سے لائے ہیں۔(انوار العلوم جلد 10 صفحہ 145 تا 161) ہیں:۔ملائکہ سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ ملائکہ کے متعلق جو غلط نہیں تھیں نہیں آپ نے دور کیا ہے۔حضرت خلیفہ لمسیح الثانی فرماتے (1) بعض لوگ کہتے تھے کہ قوائے انسانی کا نام ملائکہ رکھا گیا ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ کو ملائکہ کی کیا ضرورت ہے۔آپ نے اس شبہ کا بہ زور رڈ کیا اور بتایا کہ ملائکہ کا وجود وہی نہیں ہے بلکہ وہ کارخانہ عالم میں ایک مفید اور کار آمد وجود ہیں۔آپ نے فرمایا کہ: