مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 270 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 270

270 نے خود وضاحت فرما دی کہ مسیح موعود کے آنے کے بعد مجددیت نہیں جاری ہوگی بلکہ خلافت دوبارہ جاری ہو جائے گی۔یہ ایک ایسی صورت نظر آتی ہے جو معقول ہے اور جس کا ظاہر ہونا بعید از عقل نہیں ہے۔وہ یہ ہے کہ جب خلافت راشدہ جاری رہے گی جب ضرورت ہوگی انہی خلفاء میں سے اللہ تعالیٰ مجدد بنا سکتا ہے۔یعنی پیشل تو فیق کسی خلیفہ کو دے سکتا ہے بعض کاموں کی۔اس لیے Clash ٹکراؤ بھی نہیں ہوسکتا۔جب ضرورت ہوگی تو اگر خلافت سچی ہے تو پھر اس کے مقابل پر خدا مجدد کو کھڑا نہیں کرے گا۔لیکن خدا کیلئے یہ کون سی روک ہے کہ ایک خلیفہ کو غیر معمولی تجدید دین کی توفیق بخش دے۔لیکن منصب خلافت منصب مجددیت سے بالا بھی ہے اور ماموریت کا پہلوان معنوں میں رکھتا ہے کہ خلفاء چونکہ مامور کے جانشین تھے اس لیے ان کی اطاعت فرض قرار دے دی گئی۔یہ ایک منصب ہے اور ایک مجددیت کا ہے جس کی بیعت فرض ہی نہیں ، جس کا دعویٰ بھی فرض نہیں، تو ظاہر و باہر فرق ہے۔اس لیے مجددیت کو خلافت سے فضیلت نہیں دی جاسکتی۔کہاں یہ کہ ایک کے متعلق اُمت کو پابند کر دیا جائے کہ اس کی بیعت کرنی ہے اور اس کی اطاعت کرنی ہے اور کہاں یہ آزاد چھوڑا ہے بلکہ یہ بھی نہیں پتہ کہ کوئی مجدد ہے بھی یا نہیں۔پس مجدد کا مفہوم آپ سمجھ لیں تو پھر آپ کے ذہن میں کوئی Clash پیدا نہیں ہوگا۔احمدیت کی تعلیم اور ان کی مجددیت کی احادیث میں بلکہ تمام اسلامی تعلیم کو مد نظر رکھ کر بات کریں گے تو ایک نہایت خوبصورت سلجھی ہوئی ایک جاری شکل نظر آئے گی جس میں کوئی ذہنی Clash نہیں ہے۔۲۳ چودھویں صدی کے مجدد کے متعلق ہماری طرف سے ایک مثبت جواب پس جب مجددین کا آنا قرآن شریف کی ایک زبردست صداقت کا ثبوت بھی ہے تو ایک جستجو کرنے والا اور محقق انسان اس ثبوت کی تفصیل سے متعلق سوال کر سکتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود چودھویں صدی کے مجدد کے بارہ میں فرماتے ہیں :- دشمنانِ اسلام کا حق ہے کہ وہ ہم سے مطالبہ کریں کہ اس صدی کا مجددکونسا ہے، اسے ہمارے سامنے پیش کرو کیونکہ تمہارے ساتھ وعدہ ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئیں گے۔۔۔احمدی جماعت اس اعتراض کو فور آرڈ کر سکتی ہے اور کہ سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل