مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 269
269 بٹ گیا، ایک صلحاء اور اولیاء پیدا ہونے شروع ہوئے جنہوں نے اپنے طور پر اسلام کو زندہ رکھنے کی کوشش کی اور اس دوران میں جب بگاڑ پیدا ہوا تو ایک سو سال کے بعد، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مجدد بنایا جو بظاہر خلیفہ بھی تھے۔لیکن ان کا اصل مقام مجددیت کا تھا کیونکہ خلافت راشدہ تو ختم ہو چکی تھی اور انہوں نے اسلام کی عظیم الشان خدمت کی اور بدرسوم کو نکالا اور بہت سی نئی باتیں جاری کیں۔پھر ایک عرصہ گزرا اور عالم اسلام زیادہ پھیل گیا۔پھر ایک وقت میں ایک سے زیادہ مجدد بھی آتے رہے۔کوئی ایران میں پیدا ہو رہا ہے، کوئی مڈل ایسٹ میں پیدا ہو رہا ہے، کوئی افریقہ میں پیدا ہو رہا ہے۔سارے عالم اسلام کیلئے ایک مجدد آ ہی نہیں سکتا۔کیونکہ وسائل کی کمی تقاضا کرتی تھی کہ الگ الگ جگہوں کیلئے الگ الگ مجدد آئیں اور پھر ایک اور بات ہم نے عالم اسلام میں دیکھی کہ مجددین میں سے اکثریت نے دعویٰ نہیں کیا۔اور بہت سے ایسے تھے جن کو بعضوں نے مجدد کہا اور بعض ایسے تھے جن کو بعض دوسروں نے مجدد کہا اور کسی کو بعض تیروں نے مجدد کہا اور اب کئی لسٹیں مجددین کی بن گئیں۔تو من کے اندر جمع کا پہلو بھی موجود تھا۔اس لیے مجددیت کے پیغام میں نہ تو کوئی دعوی شرط تھا نہ اس مجدد کو ماننا۔ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها كى حدیث میں لفظ من کی طرف اشارہ ہے ، ضروری قرار دیا گیا۔کہیں بھی تمام احادیث میں جن کی تشریح عالم اسلام کی تاریخ نے کی ہے یہ بات کہیں نہیں آتی کہ مجدد مامور ہو اور اس کی بات مانی جائے۔ایک بزرگ ہے جس نے خدمت کی ہے اور خدا نے اس کو عظیم خدمت کی توفیق عطا فرمائی ہے اور گرتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کی توفیق بخشی ہے۔یہ ہے مجددیت کا تصور۔لیکن خلافت کے مقابل پر جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے کسی مجددیت کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔اگر خلافت راشدہ جاری رہتی اور پھر مجدد الگ الگ کھڑے ہوتے اور دعویٰ بھی کرتے ، اپنی طرف بھی بلاتے تو وحدت کو پارہ پار کر دیتے بجائے فائدہ پہنچانے کے۔اسی لیے رسول کریم ﷺ نے جہاں مجدد کی پیشگوئی فرمائی وہاں ساتھ یہ بھی خبر دی کہ جب مسیح آئے گا فرمایا: ثم تكون خلافة على منهاج النبوة (مسنداحمد بحوالہ مشکوۃ باب الانذار والتحذير) پھر مجددیت نہیں آئے گی بلکہ منہاج نبوت پر خلافت جاری ہو جائے گی۔اگر آنحضرت مے نے صرف مجددیت کی پیشگوئی فرمائی تو ٹھیک ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے مجدد آئیں گے لیکن آپ