مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 187
187 میں لے جائے گا تو تیرے بغیر نہ جائیں گے“۔۲؎ استقا جہانگیر نے جب سجدہ تعظیمی نہ کرنے پر آپ کو قید کر دیا تو شاہجہاں نے قاصد بھجوایا کہ فقہ کی کتب میں سجدہ تعظیمی کی اباحت ہے۔آپ نے فرمایا:- وو جان بچانے کیلئے یہ بھی جائز ہے مگر عزیمت اسی میں ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ نہ کیا جائے“۔آپ کی تبلیغ کا اثر قلیح خان جو اکبری دور کا جرنیل تھا ایک خط میں حضرت مجد دکولکھتا ہے :- " آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ لا ہورا ایسے بڑے شہر میں آپ کے وجود سے بہت سے احکام شرعیہ نے رواج پیدا کر لیا ہے، دین کو تقویت اور ملت بیضائی کی تائید ہوتی ہے۔۔۔اگر اس شہر میں دین کو رواج حاصل ہوا تو سب جگہ ایک قسم کا رواج پیدا ہو جائے گا حق سبحانہ آپ کی مدد فرمائیں۔۲۴ آپ کی ہدایت پر آپ کے مرید شیخ بدیع الدین نے لشکر جہانگیر میں دعوت دی تو ایک تعداد کثیر حضرت مجدد کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گئی۔تصانیف آپ کی تصانیف میں شہرہ آفاق آپ کے مکتوبات ہیں۔اس کے علاوہ مبداً معاد۔معارف لدنیہ۔مکاشفات غیبیہ۔شرح رباعیات حضرت خواجہ باقی باللہ رسالہ تہلیلیہ۔رسالہ فی اثبات النبوۃ۔ساله بسلسلہ احادیث شامل ہیں۔آپ کا جاری کردہ طریقہ مجددیہ اس عہد میں صوفیاء میں طریقہ جاری کرنے کا رواج تھا۔جسے ہم عام زبان میں سلسلہ کہتے ہیں۔آپ نے بھی قرآن وسنت کی ترویج کیلئے اور رسومات سے بچانے کیلئے ایک نیا سلسلہ طریقہ