مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 186 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 186

186 تہہ و بالا ہو گیا۔خیموں کی چو میں اکھڑ گئیں ، اکبر خود زخمی ہو گیا۔لیکن حضرت مجددالف ثانی کی قیامگاہ بالکل محفوظ رہی۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں زخموں کے باعث اکبر کی موت واقع ہوئی اور موت کے وقت اس نے تو حید ورسالت محمدی کی تصدیق کی اور سورۃ یسین بھی سنی۔یہ مجد دالف ثانی کی تبلیغ کا نتیجہ تھا۔اسے ایام اسیری میں تبلیغ دوران تجدید و تبلیغ آپ کو کئی سال تک محبوس کیا گیا مگر آپ نے سنت یوسفی کے مطابق بخوشی یہ راہ حق کی تکلیفیں گوارا کیں اور قید میں بھی رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔چنانچہ آپ کی تبلیغ سے بیشمار گناہوں سے آلودہ تائب ہوئے اور کئی لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔آپ فرمایا کرتے تھے:۔میں اس (بادشاہ یا خدا۔ناقل ) کا مشکور ہوں کہ اس نے مجھے قید کر دیا اگر وہ ایسانہ کرتا تو اتنے لوگ جو فوائد دینی سے مالا مال ہوئے ہیں محروم رہ جاتے۔آپ دو سال تک قید رہے ( بعض جگہ ایک سال بھی لکھا ہے ) اور اس کے بعد بادشاہ کی بیٹی کو بذریعہ خواب متنبہ کیا گیا چنانچہ اس وقت کے بادشاہ جہانگیر نے پروانہ رہائی جاری کیا لیکن جس طرح حضرت یوسف نے برات تک قید میں رہنے کو ترجیح دی تھی اسی طرح آپ نے بھی رہائی کیلئے چند شرائط پیش کر دیں اور ان شرائط سے آپ کے دل کی کیفیت اور جذبہ تجدید کا اظہار ہوتا ہے۔وہ شرائط یہ تھیں۔ا۔تمام مسمار شدہ مساجدا از سر نو تعمیر کی جائیں۔۲۔کفار سے شریعت محمدیہ کے مطابق جزیہ لیا جائے۔۳۔مسلمانوں سے گائے ذبح کرنے کی پابندی ختم کی جائے۔۴۔سجدہ تعظیمی فوراختم کیا جائے۔بادشاہ نے ان شرائط کو فورا تسلیم کر لیا اور آپ رہا ہو گئے۔اس کے دوشہزادے شاہجہاں اور اور نگ زیب آپ کے مرید بن گئے۔قید سے رہائی پر آپ نے جو شرائط پیش کیں نیز آپ کے پند و نصائح نے جہانگیر کو بدل دیا اس طرح فتنہ اکبری کا خاتمہ ہوا اور آخری عمر میں جہانگیر کہا کرتا تھا مجھے نجات کیلئے صرف یہی دستاویز حاصل ہے کہ شیخ احمد سر ہندی نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت