مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 188
188 مجددیہ کے نام سے شروع کیا۔اس کے متعلق شیخ محمد اکرم رود کوثر میں لکھتے ہیں :- ” اس طریقے کے تمام اصول و فروع میں اتباع سنت اور اجتناب بدعت نامرضیہ بدرجہ کمال ہے۔کمال ولایت کے علاوہ کمالات نبوت کی بھی تعلیم ہے۔اس میں نہ چلہ کشی کی ضرورت اور نہ ذکر بالجبر کی اجازت ہے، نہ سماع بالمزامیر ہے، نہ قبور پر روشنی ، نہ غلاف و چا در اندازی، نه هجوم عورات، نه سجدۂ تعظیمی، نہ سر جھکانا، نہ بوسہ دینا، نہ توحید وجودی و دعوی انا الحق و ہمہ او است، نہ مریدوں کو پیروں کی قدم بوسی کا حکم ، نہ مرید عورتوں کو ان کے پیروں سے بے پردگی ہے پس آپ کا طریقہ رائج الوقت طریقوں کی اتباع میں رسماً نہ تھا بلکہ خالص مذہبی جماعت کا قیام مدنظر تھا۔جس میں اسلام کے حکموں پر عملدرآمد ہو۔مولانا غلام علی آزاد بلگرامی آپ کے سلسلہ ولٹریچر کے ذکر میں کہتے ہیں :- سلسلہ ان کا ہند سے ماوراء النہر اور روم، شام و عرب تک پہنچا۔تصانیف میں ان کی مکتوبات تین جلدوں میں ہیں۔میں نے سنا ہے کہ بعض علماء نے ان کے مکتوبات کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔اگر چہ میں نے یہ عربی ترجمہ نہیں دیکھا“۔۲۸ آپ کا سلسلہ آپ کے بعد بھی جاری رہا۔آپ کے فرزند سوم خواجہ محمد معصوم قدس سرہ جو آپ کے خلیفہ ہوئے ، پہلے دن ہی پچاس ہزار افراد نے ان کی بیعت کی۔بادشاہوں نے بھی تحائف بھجوائے اور بیعت کی۔کاشغر کا بادشاہ مرید ہوا ، یمن کا بادشاہ خا آن مسلمان ہوا۔تاریخ مراۃ عالم و جہاں نما میں لکھا ہے کہ ہندوستان، توران، ترکستان، بدخشاں ، کاشغر، روم، سام، یمن کے بادشاہ آپ کے مرید ہوئے اور 9 لاکھ آدمی براہِ راست آپ کے مرید ہوئے۔آپ کے خلفاء کی تعداد 7 ہزارتھی۔ہے احمدیت اور حضرت مجددالف ثانی ہر چند کہ حضرت مجد د احمدیت سے کئی صدیاں پہلے ہوئے لیکن وہ اختلافی مسائل جو احمد یوں اور دیگر لوگوں کے مابین محل نزاع ہیں ان کے بارے میں آپ کے مکتوبات میں ایسے اشارات ہیں جن سے ہمارے مسلک کی تائید ہوتی ہے۔دراصل یہ در پردہ تیاری تھی اور احمدیت کیلئے زمین ہموار ہورہی تھی۔