مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 80
80 معتزلہ سے اختلاف مندرجہ ذیل مسائل میں آپ نے معتزلہ سے اختلاف کیا۔ا۔معتزلہ خدا کی ذات اور صفات کو جدا نہیں سمجھتے۔مگر آپ نے فرمایا خدا کی صفات علم ، بصارت، کلام ازلی و ابدی ہیں اور ذات حق سے جدا ہیں۔اللہ کا ہاتھ ، چہرہ ، عرش حقیقتا اور مادی طور پر نہیں ہیں۔ان سے مراد خدا کا فضل اور اس کی ذات وغیرہ ہے۔معتزلہ کے نزدیک قرآن مخلوق ہے اور امام اشعری کے نزدیک غیر مخلوق ہے اور یہ خدا کی صفت کا ظہور ہے۔معتزلہ کے نزدیک رویت باری حقیقتا ممکن نہیں مگر اشعری کے نزدیک روز محشر میں ایسا ممکن ہوگا گو ہم اس کی تفصیلات سے نا آشنا ہیں۔۔معتزلہ کے نزدیک انسان کو افعال میں اختیار ہے۔جبکہ اشعری کہتے ہیں کہ ہر چیز اللہ اور اس کے ارادے کے تحت ہے۔ہر خیر و شر خدا کی مشیت پر ہے۔عقیدہ کسب اشعری عقائد کا جزو ہے۔معتزله المنزلة بين المنزلتين عقیدہ کی بناء پر کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب مسلمان نہ مؤمن رہتا ہے اور نہ کافر۔مگر اشعری کہتے ہیں کہ وہ مومن تو رہتا ہے لیکن جرم کی پاداش میں عذاب جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے۔معتز لی حوض کوثر ، پل صراط، میزان، شفاعت وغیرہ امور کے یا تو سرے سے منکر ہیں یا ان کی تاویل کر لیتے ہیں۔جبکہ اشعری ان کی اصلیت کے قائل ہیں۔۵۔تصانیف آپ کی مجددانہ شان آپ کی تصنیفات سے عیاں ہے۔اس وقت تو ایسے صاحب قلم مردمیدان کی ضرورت تھی جو اپنے عہد کا ”سلطان اللہ ہوتا ہے اور اسی عقل کو دین کی خدمت کیلئے استعمال کرتا جسے معتزلہ دین سے دور ہٹنے کیلئے استعمال کر رہے تھے۔جو کتاب وسنت کی افادیت بیان کرتا ہے۔