مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 81
81 چنانچہ وقت کے تقاضا کے مطابق امام ابوالحسن اشعری خدا کی طرف سے مجدد مبعوث ہوئے۔آپ نے سینکڑوں کتب تصنیف فرما ئیں جن کے ذریعہ سے معتزلہ کو شکست فاش ہوئی اور فلاسفہ کا غرور خاک میں مل گیا۔آپ کی کتب کی تعداد میں بہت اختلاف ہے۔قاضی ابوالمعالی بن عبدالمالک نے ان کی تعداد تین سو بتائی ہے۔اسی طرح ابن فورک نے بھی تین سو کتب بتائی ہیں۔تاہم ابن عسا کر نے ننانوے اور علامہ ابن حزم نے بچپن بتائی ہے اور مقالات اسلامین میں آپ کی ایک سو دو کتب کی فہرست موجود ہے۔ذہبی کے نزدیک آپ کی تفسیر القرآن تمہیں اجزاء میں ہے۔آپ کی کتب سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے ہاں نہ بے جا فلسفہ ہے نہ عقلی موشگافیاں ، نہ تجرید (Abstraction) کی بے راہ روی اور نہ حکمت و دانش کی وہ بے جان خنکی ہے جو علم کلام کے ساتھ مخصوص ہے۔اسی طرح ان کتب میں اعتزال جہمیت تعلق پرستی ہمنویت اور دہریت کے دلائل کا قلع قمع کیا گیا ہے۔گویا امام ابوالحسن اشعری اس سلسلہ الذہب کی ایک درخشاں کڑی ہیں جس نے ہر دور میں اسلام اور اہل اسلام کا سر فخر سے بلند رکھا۔کتب کی اقسام آپ کی تصنیفات کو مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ا۔معتزلی دور کی کتب ۲۔وہ کتب جو خارج از اسلام زمروں، فلاسفہ، طبعیوں، دہریوں، براہمہ، یہود اور نصاری کے رد میں لکھیں۔۔وہ کتب جو خارجیہ، جہمیہ ، شیعہ معتزلہ ظاہر یہ جیسے اسلامی فرقوں کے رڈ میں لکھیں۔۴۔وہ کتب جن میں مسلم و غیر مسلم علماء کے مقالات وغیر نقل کیسے ہیں۔۵۔ایسے سوالات کے جوابات پر مبنی رسالے جو لوگوں نے پوچھے۔جیسے مقالات اسلاميين۔الابانة من اصول الديانة۔رسالة الايمان قول جمله اصحاب الحديث و اهل السنة في الاعتقاد۔رساله استحسان الخوض في علم الكلام