دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 78
78 عیسی علیہ السلام کے بارے میں ہے اور اس کتاب کے متعلق یہ الفاظ مولوی عبداللہ غزنوی صاحب کے بارے میں الہام ہوئے تھے۔(سوانح عمری مولوی عبداللہ غزنوی مرحوم ، باہتمام عبدالغفار و عبدا الاول، ناشر مکتبہ قرآن والسنت امرتسر صفحه ۹) پھر لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کو گرفتار کر کے سردار محمدعمر پسر دوست محمد خان امیر افغانستان کے سامنے پیش کیا گیا۔اس کا جرنیل یہ کہتا تھا کہ اس شخص کو میرے حوالے کرو میں توپ سے اڑا دوں گا۔سردار محمد عمر نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں اس راستہ کو نہیں چھوڑتے ؟ جو کچھ مولوی کرتے ہیں اس میں شریک ہو جاؤ۔اس پر مولوی عبداللہ غزنوی صاحب نے جواب دیا۔مجھے الہام ہوتا ہے: پر ولئن اتبعت اهواء هم بعد الذى جاء ك من العلم ما لك من الله من ولى ولا نصير یہ سورۃ البقرۃ آیت ۱۲۱ کے الفاظ ہیں اور یہ الفاظ آ نحضرت میلہ کو مخاطب کر کے ہیں۔سوانح عمری مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم باہتمام عبدالغفار و عبدالاول ناشر مکتبہ قرآن والسنته امرتسر صفحه ۱۵) اسی طرح اس کتاب کے مطابق مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کو سورۃ انعام آیت ۴۶ اور سورۃ النجم آیت ۳۳ الہام ہوئی تھیں۔(سوانح عمری مولوی عبداللہ غزنوی مرحوم باہتمام عبدالغفار وعبدالاول، ناشر مکتبہ قرآن والسنته امرتسر صفحه ۳۹٫۱۴) حضرت محی الدین ابن عربی اپنی کتاب فتوحات مکیہ میں تحریر کرتے ہیں کہ ان پر آیت کریمہ ” قل امنا بالله وما انزل علينا و ما انزل علی ابراهیم و اسمعیل و اسحق و يعقوب والاسباط و ما اوتی موسیٰ و عیسیٰ نازل ہوئی پھر کہتے ہیں کہ اس آیت کو میرے لیے ہر علم کی کنجی بنایا گیا اور میں نے جان لیا کہ میں ان 66 1 تمام انبیاء کا مجموعہ ہوں۔( فتوحات مکیہ الجزء الثالث مطبع دارالکتب العربیه الکبری صفحه ۳۵۰) اسی طرح تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مبارک کو آیت اوفوا بالعهد ان العهد كان مسئولا الہام ہوئی تھی۔