دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 77
77 بیان حرف بحرف ریکارڈ کیا جائے۔پھر یہ عبارت غائب کیوں کی گئی ؟ اس کا رروائی کو مولوی ظفر انصاری صاحب نے ترتیب دیا تھا۔اگر وہ عربی سمجھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے تھے تو جماعت احمدیہ کے وفد سے یہ عبارت لکھوا کر درج کر سکتے تھے۔بہر حال مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کے کچھ الہامات درج کیے جاتے ہیں جو کہ آیات قرآنی پر مشتمل تھے۔یہ مثال اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے اور جس کتاب کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ ان کے بیٹوں نے تالیف کرائی تھی جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شدید مخالفین میں سے تھے۔چنانچہ مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ریاست کابل کا معاشرہ بدعات میں ڈوبا ہوا تھا اور آپ کو کتاب وسنت کی پیروی کے بارے میں الہامات ہوتے تھے اور آپ حیران ہوتے تھے کہ اس ریاست میں تو کتاب وسنت کی پیروی کا نام ونشان بھی موجود نہیں پھر مجھ سے یہ کام کیوں کر ہوگا۔اس حالت میں آپ کو یہ آیت الہام ہوتی تھی سنيسرك لليسرى یہ سورۃ اعلیٰ کی آیت نمبر ۹ ہے اور یہ ارشاد آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے ہے اور یہ وعدہ آنحضرت ﷺ سے کیا جا رہا ہے اور مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کا یہ دعویٰ تھا کہ انہی الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ہی وعدہ ان کے ساتھ بھی کیا ہے۔سوانح عمری مولوی عبداللہ غزنوی مرحوم با ہتمام عبدالغفار و عبد الاول، ناشر مکتبہ قرآن والسنته امرتسر صفحه ۵) پھر اسی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک اور عالم مولوی عبد الرحمن صاحب ایک بارطویل سفر کرے مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کے پاس جا رہے تھے کہ لوگوں سے آپ کے متعلق کچھ نا مناسب باتیں سنیں۔اس پر انہیں الہام ہوا انه عندنا لمن المصطفين الاخیار پہلے لفظ کی تبدیلی کے ساتھ یہ سورۃ ص آیت ۴۸ کے الفاظ ہیں اور المصطفین الا خیار کے الفاظ حضرت ابراہیم ، حضرت الحق اور حضرت اسحق کے مقام کے بارے میں نازل ہوئے تھے اور اس کتاب میں یہ دعویٰ ہے کہ یہ الفاظ مولوی عبداللہ غزنوی صاحب کے بارے میں بھی الہام ہوئے ہیں۔اسی طرح لکھا ہے کہ انہیں مولوی عبداللہ غزنوی صاحب کی شان میں الہام ہوا ان هو الا عبد انعمنا عليه يعنى وه تو محض ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا۔یہ سورۃ الزخرف آیت ۶۰ کا ایک حصہ ہے جو کہ حضرت