دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 79 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 79

79 الله یہ حقیقت ہے کہ امت محمدیہ کے بہت سے بزرگوں کو آیات قرآنی الہام ہوئی تھیں اور ان آیات قرآنی میں وہ آیات بھی شامل تھیں جن میں حضرت محمد مصطف عملے کو یا دوسرے انبیاء کو مخاطب کیا گیا تھا یا یہ آیات ان کے بلند مقام کے بارے میں تھیں لیکن اگر اس سے کوئی یہ مطلب لیتا کہ نعوذ باللہ یہ قرآن کریم میں تحریف تھی یا ان اولیاء کے نزدیک یہ آیات آنحضرت ﷺ کے بارے میں نہیں بلکہ صرف ان کے بارے میں تھیں بلکہ صرف یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ ان پر یہ آیات آنحضرت ﷺ کی غلامی میں الہام کی گئی تھیں اور اول مخاطب ان آیات کے آنحضرت عے ہیں تھے اور ان اولیاء کو آپ کی اتباع کی برکت سے اس نعمت سے حصہ دیا گیا تھا۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الہامات پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب براہین احمدیہ شائع ہونی شروع ہوئی اور ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں فرمایا تھا۔اس وقت بھی براہین احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے ایسے الہامات شائع ہوئے تھے جو کہ آیات قرآنی پر مشتمل تھے۔اس وقت بھی بعض افراد کی طرف سے اس پر سوالات اُٹھائے گئے تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے جنہوں نے بعد میں جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت شروع کر دی اس کا جواب لکھا۔یہ جواب ان کے رسالے اشاعۃ السنہ میں شائع ہوا۔یہ تحریر من و عن درج کی جاتی ہے۔فریق دوم کے اعتراض کا ماحصل یہ ہے کہ مولف براہین احمدیہ نے اپنے آپ کو بہت سی آیات قرآن کا ( جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ) وآدم و عیسی وابراہیم علیہم السلام کے خطاب میں وارد ہیں اور از انجملہ گیارہ آیات بذیل وجه انکار فریق دوم قرار بصفحہ منقول ہو چکی ہیں ) مخاطب اور مورد نزول ٹہرایا ہے اور ان کمالات کا جو انبیا سے مخصوص ہیں (جیسے وجوب اتباع۔نزول قرآن۔وحی رسالت فتح مکہ حوض کوثر۔زندہ آسمان کی طرف اُٹھایا جانا وغیرہ) محل قرار دیا ہے۔اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ مؤلف براہین احمدیہ کو در پردہ نبوت کا دعوی ہے۔اس کے جواب دو ہیں۔اوّل یہ کہ مولف براہین احمدیہ نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ قرآن میں ان آیات کا مورد نزول اور مخاطب میں ہوں اور جو کچھ قرآن یا پہلی کتابوں میں محمد رسول اللہ علی