دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 38 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 38

38 ہونے کی رغبت دلائیں۔“ (اردو ترجمہ خطبہ الہامیہ صفه ۲۴۳) اگر یہی مفروضہ درست تسلیم کیا جائے کہ جو حضرت عیسی علیہ السلام یا کسی شرعی نبی سے فضیلت کا دعوی کرے تو وہ شرعی نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے یا اگر یہی سمجھا جائے کہ امت مسلمہ کا وہ فرقہ جو کسی وجود کو انبیاء یا شریعت لانے والے انبیاء سے افضل سمجھے تو اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ وہ فرقہ اس وجود کو شرعی نبی مانتے ہوئے اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ اب آنحضرت ﷺ کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے تو اس کلیہ کے تحت بہت سے فرقوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا پڑے گا کیونکہ امت محمدیہ کے بہت سے فرقے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس امت کے بہت سے مقدس وجود انبیاء سے افضل تھے مثلاً شیعہ فرقہ کا یہ عقیدہ ہے کہ ائمہ اہل بیت آنحضرت ﷺ کے علاوہ باقی انبیاء سے افضل تھے۔شیعہ فرقہ کی معروف کتاب ” چودہ ستارے میں لکھا ہے: وو پیغمبر اسلام کی مشہور حدیث ہے کہ میرے اہل بیت میرے علاوہ تمام انبیاء سے بہتر ہیں ( چودہ ستارے مع اضافہ اصحاب امیر المؤمنین و شہداء کربلا، سید نجم لحسن، ناشر حمایت اہل بیت وقف لا ہور، بارسوئم اپریل ۱۹۷۳ء صفحہ ۲۷) مستقبل میں ظہور کرنے والے امام مہدی کے متعلق بھی شیعہ فرقہ کا یہی عقیدہ ہے کہ وہ انبیاء سے افضل ہیں اسی کتاب چودہ ستارے میں امام محمد مہدی کے بارے میں لکھا ہے آپ اپنے آبا ؤ اجداد کی طرح امام منصوص، معصوم، اعلم زمانہ اور افضل کائنات ہیں۔آپ بچپن ہی میں علم و حکمت سے بھر پور تھے (صواعق محرقہ صفحہ ۱۲۴)۔آپ کو پانچ سال کی عمر میں ویسی ہی حکمت دے دی گئی جیسی حضرت بیٹی کو ملی تھی اور آپ بطن مادر میں اسی طرح امام قرار دیئے گئے تھے جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نبی قرار پائے تھے ( کشف الغمہ صفحہ ۱۳۰)۔آپ انبیاء سے بہتر ہیں۔( چودہ ستارے مع اضافہ اصحاب امیر المؤمنین و شہداء کربلا سید نجم احسن ، ناشر حمایت اہل بیت وقف لاہور، با رسوئم اپریل ۱۹۷۳ صفحه ۴۵) ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ شیعہ حضرات کے نزدیک تمام ائمہ اہل بیت یعنی حضرت علیؓ، حضرت امام حسن ، حضرت امام حسینؓ ، حضرت امام زین العابدین ، حضرت امام محمد باقر ، حضرت امام