دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 39
39 جعفر صادق"، حضرت امام موسیٰ کاظم ، حضرت امام علی رضا ، حضرت امام محمد تقی ، حضرت امام علی نقی ، الله حضرت امام حسن عسکری اور حضرت محمد مہدی یہ تمام بزرگان آنحضرت ﷺ کے علاوہ تمام انبیاء اور صاحب شریعت انبیاء سے بھی افضل تھے۔نہ صرف یہ بلکہ ان کی کتب بھی کتب سماویہ کا درجہ رکھتی ہیں مثلاً اسی کتاب میں حضرت امام زین العابدین کی تصنیف ” صحیفہ کاملہ کے متعلق لکھا ہے سے علماء اسلام نے زبور آل محمد اور انجیل اہل بیت کہا ہے اور اس کی فصاحت و بلاغت معانی پر حقیقت کو دیکھ کر اسے کتب سماویہ صحف لوحیہ وعرشیہ کا درجہ دیا۔“ ( چودہ ستارے مع اضافہ اصحاب امیر المؤمنین وشہداء کربلا سید نجم لحسن، ناشر حمایت اہل بیت وقف لاہور، با سوئم اپریل ۱۹۷۲ صفحه ۲۱۹) اگر مفتی محمود صاحب کا بیان کردہ مفروضہ درست تسلیم کیا جائے تو اس سے یہ نتیجہ بھی ماننا پڑے گا کہ شیعہ حضرات ان ائمہ کو صاحب شریعت انبیاء تسلیم کرتے ہیں اور اس طرح ختم نبوت کے منکر ہیں۔یہاں پر حضرت مجددالف ثانی کا یہ ارشاد درج کرنا مناسب ہوگا۔آپ اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کے طفیل امتی انبیاء سے افضل بن سکتے ہیں۔آپ لکھتے ہیں اگر امتوں میں سے کوئی فرد اپنے پیغمبر کی طفیل و تبعیت کے باعث بعض پیغمبروں 66 سے اوپر چلا جائے تو خادمیت اور تبعیت کے طور پر ہوگا “ (کشف المعارف مرتبه عنایت عارف الفیصل ناشران ، بار دوم فروری ۲۰۰۶ صفحه ۳۵۰) اگر مفتی محمود صاحب کا مفروضہ درست تسلیم کر لیا جائے تو حضرت مجد دالف ثانی جیسی عظیم ہستی پر بھی الزام آئے گا۔مسئلہ جہاد اور مفتی محمود صاحب کا لا یعنی دعوئی حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص خلاف واقعہ الزام لگا بیٹھے تو اس کے ثبوت پیش کرتے ہوئے اسے جھوٹ بھی بولنا پڑتا ہے اور خلاف عقل استدلال سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔مفتی محمود صاحب اور ان کے ہم خیال گروہ کی بھی یہی کیفیت تھی۔اس گروہ نے پہلے جھوٹے الزام لگائے اور اس کے نتیجہ