دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 22
22 بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت یا کوئی ایک شعشہ قیامت تک منسوخ نہیں ہوسکتا۔قرآن کریم کا ایک ایک حکم اور ایک ایک ارشاد ہر حالت میں واجب العمل ہے۔کسی شخص کے قول یا اجتہاد، وحی یا الہام کوحتی کہ کسی حدیث کو بھی قرآنی آیات پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جماعت احمدیہ کی تعلیم بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں جو شخص قرآن کے سات سوحکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔“ (روحانی خزائن جلد ۹ اصفحه ۲۸) اس پس منظر میں اتنے روز غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کرنے کی خواہ مخواہ تکلیف کی۔اگر مفتی محود صاحب اور ان کے ہم خیال مولوی صاحبان کے علم میں ایسی چالیس پچاس آیات تھیں تو ان کو جماعت احمدیہ کے وفد کے روبرو پیش کر دیتے ، اسی وقت فیصلہ ہو جا تا بلکہ مناسب ہوتا کہ ان کو اکٹھا کسی اخبار میں شائع کرا دیتے۔تمام احمدی جس عقیدے کو خلاف قرآن پاتے فوراً اس سے تائب ہو جاتے اور اس طرح مولوی حضرات کو ایک فتح عظیم نصیب ہوتی لیکن جب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے وفد سے جب سوالات کیے گئے تو کیا یہ بیسیوں آیات پیش کی گئیں؟ ہمیں افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ تمام کارروائی میں اس بات کا کوئی نام ونشان نہیں ملتا کہ کبھی ان حضرات نے یہ بیسیوں آیات تو کیا چند آیات ایسی پیش کی ہوں جو واضح طور پر جماعت احمدیہ کے مخالفین کے موقف کی تائید کرتی ہوں۔خیر سوالات کا مرحلہ گزر گیا۔اب جب کہ مفتی محمود صاحب مولوی حضرات کا تیار کردہ موقف پڑھ رہے تھے تو کیا اس مرحلہ پر یہ بیسیوں آیات پیش کی گئیں؟ ہمیں ایک بار پھر افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ اس اہم مرحلہ پر بھی مفتی محمود صاحب ایک قرآنی آیت بھی نہ پیش کر سکے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کسی قسم کا کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔دوسری طرف جب ہم جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیے جانے والے محضر نامے کا جائزہ لیتے ہیں ، تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس محضر نامے میں محض یہ خالی دعوی نہیں پیش کیا گیا تھا کہ بیسیوں آیات ہمارے موقف کی تائید کرتی ہیں بلکہ اس محضر نامہ کا ساتواں باب ” آیت خاتم النبین“