دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 23
23 کی صحیح تفسیر اور ان آیات کریمہ پر مشتمل ہے جو کہ جماعت احمدیہ کے موقف کی صداقت کو ظاہر کرتی ہیں اور اس موضوع پر احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے اقوال بھی حوالوں سمیت درج کیے گئے ہیں۔تمام محضر نامے کی طرح محضر نامہ کا یہ حصہ بھی قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کے روبرو پڑھا گیا تھا اور تمام ممبران اسمبلی کو تحریری طور پر بھی دیا گیا تھا۔ظاہر ہے اس کے جواب میں ضروری تھا کہ مخالفین بھی قرآن کریم سے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل پیش کرتے اور جب مفتی محمود صاحب مولویوں کا موقف پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے یہ دعوئی پیش کیا کہ بلا مبالغہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات ان کے موقف کی تائید کرتی ہیں لیکن پھر کیا ہوا؟ کیا انہوں نے ایسی چالیس پچاس آیات پیش کیں جو کہ ان کے موقف کی تائید کرتی ہوں ؟ تو اس سوال کا جواب ہے نہیں۔وہ ایسی چالیس پچاس آیات نہیں پیش کر سکے جو ان کے موقف کی تائید کرتی ہوں۔اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا انہوں نے ایسی دس ہیں آیتیں پیش کیں جو کہ ان کے موقف کی تائید کرتی ہوں؟ تو اس کا جواب ہے کہ نہیں۔وہ ایسی دس یا بہیں آیات بھی نہیں پیش کر سکے جو کہ ان کے مؤقف کی تائید کرتی ہوں۔اگر ان مولوی حضرات سے ہر قسم کی رعایت کر کے اب یہ پوچھا جائے کہ کیا اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب ایسی ایک بھی آیت پڑھ سکے جو ان کے موقف کی تائید کرتی ہو؟ تو ہمیں ایک بار پھر تاسف سے لکھنا پڑھتا ہے کہ مفتی محمود صاحب اور ان کے ساتھ کام کرنے والے مولوی حضرات ایک بھی ایسی قرآنی آیت نہیں پیش کر سکے جو کہ ان کے مؤقف کی تائید کرتی ہو۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں لغت ، احادیث نبویہ اور سلف صالحین کی روشنی میں آیت خاتم النبین (سورۃ احزاب آیت (۴) کی تفسیر درج کی گئی تھی اور یہ سب جانتے ہیں کہ مولوی صاحبان اس آیت کریمہ کو اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کرتے رہے ہیں لیکن اس محضر نامہ کے پڑھے جانے کے بعد مولوی حضرات یہ ہمت بھی نہیں کر سکے کہ اپنے موقف کے دفاع میں اس آیت کریمہ کو پیش کرسکیں۔ایک اور پہلو سے اس مسئلہ کا جائزہ لیتے ہیں۔جیسا کہ ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ جماعت احمد یہ نے اپنے مؤقف کی تائید میں قرآن کریم کی آیات پیش کی تھیں۔سوال یہ ہے کہ کیا مفتی محمود صاحب