دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 21
21 وہ بیسیوں آیات کریمہ جو مفتی محمود صاحب پیش نہ کر سکے مفتی محمود صاحب نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا: اسلام کی بنیا دتو حید اور آخرت کے علاوہ جس اساسی عقیدہ پر ہے، وہ یہ ہے کہ نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفے عیﷺ پر نبوت اور رسالت کے مقدس سلسلے کی تکمیل ہو گئی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی بھی شخص کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتا اور نہ آپ کے بعد کسی پر وحی آسکتی ہے اور نہ ایسا الہام جو دین میں حجت ہو۔اسلام کا یہی عقیدہ ختم نبوت کے نام سے معروف ہے اور سرکار دو عالم عملے کے وقت سے آج تک پوری امت مسلمہ کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اس عقیدے کو جزو ایمان قرار دیتی آئی ہے۔قرآن کریم کی بلا مبالغہ بیسیوں آیات اور آنحضرت ﷺ کی سینکڑوں احادیث اس کی شاہد ہیں۔۔66 اگر یہ کہا جائے کہ یہ چند فقرے خلاصہ ہیں اس موقف کا جو کہ جماعت احمدیہ کے مخالف مولوی صاحبان قومی اسمبلی کے رو برو پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو یہ بات غلط نہیں ہوگی لیکن یہ سب کچھ اس احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا تھا کہ جماعت احمدیہ کے وفد کو اس کا جواب دینے کا موقع نہ دیا جائے لیکن ایسا کیوں کیا جارہا تھا ؟ اگر جماعت احمدیہ کے مخالفین کو یہ اختیا ر تھا کہ وہ جماعت احمدیہ کا موقف سننے کے بعد اس پر جرح کر سکیں اور سوال اُٹھا سکیں تو یہ حق جماعت احمدیہ کے نمائندگان کو بھی حاصل تھا کہ وہ مولوی صاحبان کا موقف سننے کے بعد اس پر جرح کر سکیں لیکن اب تک مولوی صاحبان کے پیش کردہ سوالات کا جو حشر ہو چکا تھا اس کے بعد یہی مناسب سمجھا گیا کہ جماعت احمدیہ کے یہ مخالفین کو اپنی شرمندگی دور کرنے کا موقع تو مل جائے لیکن کسی کو ان پر جرح نہ کرنے دی جائے اور نہ باہر کسی کو کان و کان خبر ہو کہ ان حضرات نے کیا فرمایا تھا۔اب ہم مفتی محمود صاحب کی تقریر کی بنیادی نکات کا مختصر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔1۔مفتی محمود صاحب نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات اس بات کی شاہد ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آ سکتا۔یہ دعوی اس لیے اہم ہے کہ جماعت احمدیہ کا