دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 192
192 یہی وطیرہ ان کے بعد ان کے جانشینوں کا رہا۔۱۹۳۱ء میں کشمیر کمیٹی کا قیام اور بالآ خر مرزا بشیر الدین محمود کی خفیہ سرگرمیوں سے اس کے شکست وریخت اور علامہ اقبال کا اس کمیٹی سے علیحدہ ہونا اور کمیٹی کو توڑ دینا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے یہ سب باتیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔علامہ اقبال کو وثوق سے یہاں تک معلوم ہوا کہ کشمیر کمیٹی کے صدر (مرزا بشیر الدین محمود ) اور سکرٹری (عبدالرحیم ) دونوں وائسرائے اور اعلیٰ برطانوی حکام کو خفیہ اطلاعات بہم پہنچانے کا نیک کام بھی کرتے ہیں۔“ پنجاب کی سیاسی تحریکیں صفحہ ۲۱۰ عبد اللہ ملک ) ( کارروائی صفحہ ۲۰۶۸) جس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے اس کا سرسری مطالعہ ہی بتا دیتا ہے کہ اس میں جماعت احمدیہ کے خلاف بے بنیاد الزامات کا ایک طومار درج کیا گیا ہے اور کسی ثبوت کو پیش کرنے کی زحمت نہیں کی گئی اور اس حوالہ کے یہ معین الفاظ تو وہاں درج بھی نہیں ہیں۔البتہ صفحہ ۲۰۶ پر مختلف الفاظ میں یہ الزام درج ہے اور اس کے آگے الفضل کے کئی حوالے درج کیے گئے ہیں جن میں کیا لکھا ہے؟ ہم خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ایک انگریز افسر نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو کہا کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ حکومت احمدیوں کے ساتھ نہیں تو انہیں کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔اب مخالفت کی تنظیم سے گورنمنٹ بھی دب گئی ہے۔گورنمنٹ نے ایک سرکلر جاری کیا جو تمام ڈپٹی کمشنروں کو بھجوایا گیا کہ گورنمنٹ کی نظر میں جماعت احمدیہ کی حیثیت مشتبہ ہے۔اب ملازمتوں اور ٹھیکوں کے سلسلہ میں احمدیوں کے حقوق کو پامال کیا جائے گا۔ایک احمدی اپنے ایک انگریز دوست سے جو کہ اعلیٰ افسر ہیں ملے۔اس انگریز افسر نے کہا کہ میں آپ کا دوست تھا لیکن معلوم نہیں اب میں آپ کا دوست رہ سکوں گا کہ نہیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے فرمایا کہ رومی سلطنت نے حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب دے دی۔اسی طرح انگریز مجھے سولی پر لٹکا سکتے ہیں تم میں سے ہر ایک کو پھانسی دے سکتے ہیں۔قید کر سکتے ہیں لیکن دنیا کی ساری حکومتیں بھی مل جائیں تو بھی احمدیت کو نہیں مٹا سکتے۔( پنجاب کی سیاسی تحریکیں از عبداللہ ملک، ناشر تخلیقات لا ہور صفحہ ۲۱۱ ۲۱۲)