دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 193 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 193

193 اور یہ سب حوالے اور یہ سب صورت حال ۱۹۳۵ء کے ہیں جب کشمیر کمیٹی کے معاملات عروج پر تھے۔بہت خوب یہ کس الزام کے ثبوت درج کیے گئے۔الزام یہ تھا کہ احمدی انگریزوں کے ایجنٹ تھے اور ان کو خبریں پہنچایا کرتے تھے اور ثبوت میں یہ حوالے درج کیے گئے ہیں کہ انگریز حکومت احمدیوں کو شک و شبہ کی سے نگاہ دیکھتی تھی اور ان سے تعلقات کو سرکاری حلقوں میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اگر کوئی انگریز کسی احمدی کا دوست تھا بھی تو وہ اظہار کر رہا تھا کہ اب شاید وہ دوست نہ رہ سکے۔امام جماعت احمد یہ بر ملا اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ برطانوی حکومت تو ایک طرف رہی اگر دنیا کی تمام حکومتیں بھی مل جائیں تو بھی احمدیت کو نہیں مٹاسکتیں۔یہ سب حوالے تو یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت انگریز حکومت نے جماعت احمدیہ کے مخالفین پر دست شفقت رکھا ہوا تھا۔ہم اس کے مزید ثبوت پیش کرتے ہیں اور اس کتاب سے پیش کرتے ہیں جس میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن واقعات کا تسلسل ہی اس بات کو ظاہر کر دیتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے مفادات پر سودا بازی کون کر رہا تھا۔اس کتاب کا نام (1926-1938 lqbal and Politics of the Punjab) ہے اور اس کے مصنف ڈاکٹر خرم محمود صاحب ہیں۔1 جولائی ۱۹۳۱ء میں خواجہ حسن نظامی صاحب کی تجویز پر شملہ میں مسلمانوں کے لیڈروں کا اجلاس ہوا۔اس میں مظلوم کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لیے کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔اس اجلاس میں علامہ اقبال بھی شامل تھے۔علامہ اقبال کی تجویز پر اس کمیٹی کا صدر امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ایک اور احمدی عبدالرحیم در دصاحب کو اس کا سیکریٹری منتخب کیا گیا۔( کارروائی صفحہ ۹۰، ۹۱ ) 2 کشمیر کمیٹی نے مہاراجہ کو لکھا کہ کشمیر کمیٹی کے وفد کو کشمیر آ کر حالات کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے۔مہاراجہ نے اجازت دینے سے انکار کیا اور حکم دیا کہ اگر یہ کشمیر میں داخل ہوں تو ان کو گرفتار کر لیا جائے۔3 کشمیر کمیٹی نے کام شروع کیا اور ۱۴ را گست ۱۹۳۱ء کو ہندوستان بھر کے چھوٹے بڑے شہروں