دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 169
169 صاحب دعوی کر رہے تھے کہ وہ الفضل کے اس شمارے سے ایک مسلسل عبارت پیش کر رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے شائع کردہ کارروائی میں کہیں علامات حذف (۔۔۔) درج نہیں ہیں کہ وہ بیچ میں سے عبارت حذف کر کے یہ جملے پیش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس روز کے الفضل کے اس شمارے میں یہ عبارت اس طرح درج ہی نہیں۔یہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تبلیغی رپورٹ سے لیے گئے جملے ہیں جو کہ اخبار کے دو صفحات پر شائع ہوئی تھی۔مفتی محمود صاحب نے بیچ میں سے عبارات غائب کر کے حوالے کو مسخ کر کے پیش کیا ہے مگر کیوں ؟ کون سے فقرے حذف کیے گئے؟ ملاحظہ کیجیے۔ابتدائی فقروں کے بعد حضرت مفتی محمد صادق صاحب لکھتے ہیں۔ہاں ہم اپنے نیک نمونے اور روحانی کشش سے یورپ کو مسلمان بنالیں تو پھر ساری حکومتیں ہماری ہی ہیں اور اس میں اسلام کی آئیندہ بہتری کی امیدیں ہیں۔“ الفضل ۱۹ مارچ ۱۹۱۸ صفحه ۸) بہت خوب ! یہ تھا قادیانیوں کا یہودی غلبہ کا منصوبہ یعنی یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ سارے یورپ کو مسلمان کر لیا جائے اور محمد ﷺ کا تابع بنا دیا جائے تو پھر فلسطین کیا ساری دنیا میں اسلام کا غلبہ شروع ہو جائے گا۔ان عزائم کے بارے میں مفتی محمود صاحب اور مولوی صاحبان یہ واویلا کر رہے ہیں کہ دیکھو کتنا بڑا ظلم ہو گیا کہ یہودیوں کے غلبہ کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا۔پھر عبارت کے آخری حصہ جس میں وزیر اعظم برطانیہ کو خط لکھنے کا ذکر ہے اس سے پہلے جس عبارت کو حذف کیا گیا ہے اس میں یہ ذکر چل رہا ہے کہ امریکہ کے لوگوں میں قرآن کریم کی اشاعت کس طرح کی جارہی ہے اور کس طرح امریکی اخبارات میں قرآن کریم کے ترجمہ کے بارے مثبت ریویو شائع ہورہے ہیں اور یہ امید کی جارہی ہے کہ کچھ امریکی اسلام قبول کر لیں گے۔(الفضل ۱۹ مارچ ۱۹۱۸ صفحہ ۹) تو یہ تھی وہ خوفناک سازش جس کا انکشاف پاکستان کے قابل ممبران قومی اسمبلی کے سامنے کیا جار ہا تھا کہ یورپ مسلمان ہو جائے اور امریکی لوگ اسلام میں شامل ہو جائیں اور مفتی محمود صاحب تو جو کہہ رہے تھے سو کہہ رہے تھے ان ممبران اسمبلی میں کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ اصل حوالہ پڑھنے کا مطالبہ کرتا اور حقیقت جان لیتا۔رہا فلسطین کے متعلق کیا موقف لکھا گیا تو گزشتہ کتاب میں