دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 170
170 حوالے درج کر دیئے گئے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ فلسطین کے ملک کے اصل مالک فلسطینی ہیں یہودی نہیں ہیں اور ہر سطح پر ہمیشہ اسی موقف کو پیش کیا گیا ہے۔مولوی صاحبان کی عادت ہے کہ جس کسی کے خلاف جذبات کو بھڑ کا نا ہو اس کے متعلق جھٹ یہ دعویٰ پیش کر دیتے ہیں کہ یہ تو یہودیوں کا پیدا کیا ہوا گر وہ ہے۔یہی الزام بعد میں شیعہ احباب کے بارے میں لگایا گیا۔چنانچہ ماہنامہ بینات کے خصوصی ایڈیشن میں یہ دعویٰ شائع کیا گیا:۔دوسرے یہ کہ جس طرح مسلمانوں کے بہت سے گمراہ فرقے خوارج ، مرجئہ، مجسمه و غیرہ غلط فہمی سے پیدا ہوئے شیعہ مذہب اس طرح پیدا نہیں ہوا بلکہ عبداللہ بن سبا یہودی اور اس کے خاص رفقاء نے اپنے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق اسلام کی تخریب و تحریف اور مسلمانوں میں افتراق و تفریق اور خانہ جنگی بر پا کرانے کے لئے اس کو وضع کیا تھا۔“ (خمینی اور اثنا عشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ ماہنامہ بینات خصوصی اشاعت صفحہ ۶۔یہ اشاعت انٹر نیٹ پر دستیاب ہے۔) اسرائیل بننے کے بعد کے حالات قیام اسرائیل بننے تک کی تاریخ پر یہ انکشافات کرنے کے بعد مفتی محمود صاحب کے تجزیہ نے اسرائیل بننے کے بعد کے حالات کی طرف رخ کیا۔انہوں نے اس حوالے سے جماعت احمد یہ پر جو الزامات لگائے ہم ان کا مختصر سا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔انہوں نے فرمایا: ނ مسٹر بالفور کے ۱۹۱۷ء کے اعلان کے مطابق ۱۹۴۸ء میں بڑی ہوشیاری۔اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تو چن چن کر فلسطین کے اصل باشندوں کو نکال دیا گیا مگر یہ سعادت صرف قادیانیوں کو نصیب ہوئی کہ وہ بلا خوف و جھجک وہاں رہیں اور انہیں کوئی تعرض نہ کیا جائے۔“ ( کارروائی صفحہ نمبر ۲۰۴۴) مندرہ بالا حوالے کا مطلب واضح ہے کہ اسرائیل کے قیام کے بعد تمام مسلمانوں کو تو