دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 87 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 87

87 وو جناب سرور کائنات میں اللہ کے کچھ اوپر ہزار سال بعد ایسا زمانہ آتا ہے کہ حقیقت محمدی اپنے مقام سے عروج فرمائے اور حقیقت کعبہ کے مقام سے مل کر ایک ہو جائے۔اس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہو اور وہ ذات احد کی مظہر بنے (کشف المعارف مرتبہ عنایت عارف الفیصل ناشران بار دوم فروری ۲۰۰۶ صفحه ۶۹) اب کیا یہ مولوی حضرات حضرت مجددالف ثانی جیسے عظیم المرتبت بزرگان کے خلاف بھی فتاویٰ صادر کرنے کے لیے مستعد ہوں گے لیکن محض خشک علم اور سطحی سوچ کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جہاں کوئی معرفت کی بات سنی جو کہ اپنی سمجھ سے بالا ہوئی تو فوراً مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔مفتی محمود صاحب یہ طریقہ اپنا رہے تھے کہ ایک نامکمل عبارت پڑھ کر اپنی طرف سے حاشیہ آرائی کر کے ممبران اسمبلی کے جذبات کو بھڑکا یا جائے۔اب انہوں نے ” اعجاز احمدی‘ میں درج قصیدہ کا ایک شعر پڑھ کر یہ الزام لگانے کی کوشش کی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ سے بھی افضل قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا: نیز اپنے قصیدہ اعجاز یہ میں (جسے قرآن کی طرح معجزہ قرار دیا ہے ) یہ شعر بھی کہا ہے کہ له خسف الـمـنـيــر و ان لي عنسنا القموان المشوقان اتنكر اس یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔اب کیا تو انکار کرے گا۔اعجاز احمدی صفحہ اسے مطبوعہ قادیان ۱۹۰۲ء) اوّل تو شعر کی عبارت ہی غلط بیان کی گئی تھی۔اصل شعر یوں ہے۔غسا القمران المشرقان اتنكر له خسف القمر المنير و ان لى بہر حال یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ یہ کہا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے لیے تو چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا تھا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا نشان ظاہر ہوا ہے۔اس طرح اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ سے افضل قرار دیا ہے۔افسوس ہے کہ مولوی مفتی محمود صاحب با وجود علم کے تمام دعاوی کے علم حدیث سے بے بہرہ تھے۔یہاں کسی فضیلت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ