دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 88
88 دونوں مصرعوں میں آنحضرت ﷺ کے ہی دو عظیم نشانوں کا ہی ذکر ہے۔ایک اول دور میں ظاہر ہوا اور دوسرا آپ ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آخرین کے دور میں ظاہر ہوا۔چنانچہ دار قطنی اور اکمال الدین میں آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی ذکر ہے کہ مہدی کے لیے یہ نشان ظاہر ہوگا کہ اس کے لیے رمضان کی پہلی رات میں قمر کا خسوف ہوگا اور بیچ کی رات میں سورج کا خسوف ہوگا اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ نشان قیامت سے لے کر اب تک کسی کے لئے ظاہر نہیں ہوا۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السماوات والارض تنكسف القمر لاول ليلة من رمضان و تنكسف الشمس في النصف منه 66 (سنن الدارقطني الجزء الثالث دار نشر الکتب الاسلامیہ لا ہور باکستان صفحہ؟) ترجمہ: ہمارے مہدی کے لیے دو نشان ہیں جو کہ جب سے زمین و آسمان بنے ہیں کسی کے لیے ظاہر نہیں ہوئے۔چاند کو رمضان کی پہلی رات میں گرہن لگے گا اور سورج کو اس کے نصف میں گرہن لگے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں یہ نشان پورا ہو کر تمام دنیا پر ایک حجت بن گیا۔اس میں فضیلت کا ذکر کہاں سے آ گیا ؟ حقیقت میں یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ پر ہے اور آپ کی پیشگوئی پر ہے اور جس قصیدہ کا ایک شعر پڑھ کر مفتی محمود صاحب یہ بودا اعتراض پیش کر رہے تھے۔اس شعر سے پہلے اور بعد کے بعض اشعار ملاحظہ ہوں۔اس سے پہلے کے تین اشعار یہ ہیں : ا تزعم ان رسولنا سيد الورى فلا والذي خلق السماء لا جله على زعم شانیه توفی ابتر له مثلنا ولد الى يوم يحشر فای ثبوت بعد ذالك يحضر وانا ورثنا مثل ولد متاعه ترجمہ: کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہمارے رسول اللہ ﷺ نے بے اولاد ہونے کی حالت میں وفات پائی جیسا کہ دشمن بد گو کا خیال ہے۔مجھے اس کی قسم جس نے آسمان بنایا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ