دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 4 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 4

4 اس بناء پر وہ یہ درخواست کرنا چاہ رہے تھے کہ اس پر سوال و جواب نہ کیے جائیں۔سپیکر صاحب نے ان سے اتفاق کیا اور جب اس موضوع پر گفتگو آگے چلی تو انہوں نے کہا مغرب کے بعد مولانا! ہم یہاں بیٹھیں گے۔سب سے پہلے طریقہ کار پر بحث کریں گے جو مہران زبانی بیان دینا چاہیں، پڑھنا چاہیں یا بحث میں حصہ لینا چاہیں یہاں آ کر بحیثیت گواہ پیش ہو جائیں جو آپ مناسب سمجھیں آپ کو پورا حق ہے۔“ لیکن یہ معلوم ہوتا تھا کہ مولوی حضرات اس بات سے ہر قیمت پر گریز کرنا چاہتے تھے کہ انہیں گواہ کی حیثیت سے پیش ہونا پڑے یا حلف اُٹھا کر اپنے شواہد پیش کرنے پڑیں کیونکہ سپیکر صاحب کے ان جملوں کا یہ ردعمل سامنے آیا کہ مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب نے کہا یہی مناسب کہ ہم حج کی حیثیث سے بات کریں اور اپنے بیان سے پہلے حلف نہ اُٹھا ئیں۔اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے کہا کہ جیسے آپ کی مرضی۔پھر مفتی محمود صاحب نے کہا کہ اگر ہم گواہ کی حیثیت سے پیش ہوں گے تو پھر ووٹ نہیں دے سکیں گے اور سپیکر صاحب نے ان سے اتفاق کیا۔اس بحث کے علاوہ بہت سے ممبران کے ذہن میں ایک سوال اُٹھ رہا تھا۔جیسا کہ گزشتہ کتاب میں اس بات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا چکا ہے وہ سن چکے تھے کہ اب تک ہونے والی کارروائی میں جماعت احمدیہ پر اُٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب میں جماعت احمدیہ کا موقف سامنے آیا تھا۔اور یہ شواہد بھی سامنے آئے تھے کہ کچھ گروہ مذہبی منافرت کی آڑ میں پاکستان اور عالم اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔سردار عنایت الرحمن عباسی صاحب کا بیان کردہ اہم نکتہ اور مولوی حضرات کا گریز چنانچہ اس مرحلہ پر ایک ممبر اسمبلی سردار عنایت الرحمن عباسی صاحب نے ایک ایسا نقطہ اٹھایا دیا جو کہ اس سپیشل کمیٹی میں موجود ایک طبقہ کے لیے بہت پریشانی کا باعث بنا۔انہوں نے کہا: میں جناب! ایک چھوٹی سی گزارش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ مولانا صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ گواہ کی حیثیت میں پیش ہوں گے تو پھر ان کی حجج کی حیثیت مجروح ہو جائے گی لیکن ایک مسئلہ ہے اس میں میں چاہتا ہوں کہ اس کی کسی