دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 3 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 3

3 ۴۔ہم گزشتہ کتاب میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ سوال و جواب کے دوران مخالفین کی طرف سے بہت سے غلط حوالے پیش کیے گئے تھے۔اور امام جماعت احمدیہ نے ان کو غلط ثابت فرمایا تھا ؟ یہ اس کارروائی کا ایک بڑا سقم تھا۔کیا مفتی محمود صاحب بھی جعلی حوالوں کا سہارا لیتے رہے یا وہ اس سقم کو دور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ان نکات کو بنیاد بناتے ہوئے ہم اس تقریر کا منصفانہ تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔مولوی حضرات کے نئے خدشات ابتدا میں ہی بہت سے ممبران کو ایک نیا خدشہ لاحق ہو گیا۔جیسا کہ بعد کی کارروائی پڑھنے سے واضح ہو جاتا ہے اب بہت سے ممبران جماعت احمدیہ کی مخالفت میں تقریر کرنے کے لیے بیتاب تھے۔اب ان اجلا سات میں جماعت احمدیہ کا وفد تو شامل نہیں تھا جو کہ پہلے کی طرح ان کی غلطیوں اور جعلی حوالوں کی نشاندہی کرتا لیکن ان کو اب بھی ایک فکر لاحق تھی۔ابتدا میں ہی مفتی محمود صاحب نے جو نکتہ اٹھا یا وہ ان کے ہی الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا: میں اس میں اتنی پوزیشن واضح کر دوں کہ پوزیشن یہ ہے کہ ہم یہاں پر بحیثیت گواہ کے جیسے کہ وہ دو فریق پیش ہوئے تھے اس طرح ہم پیش نہیں ہوں گے اور ہم اس مسئلے میں ان کے مقابلے میں ایک فریق کی حیثیت اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا موقف تمام مسلمانوں کا موقف ہے۔اس میں ہم فریق بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اس کے علاوہ اس میں یہ صورت حال ہے کہ ہم ایک ممبر کی حیثیت سے ہیں اور ممبران کو حقائق واضح کرنے کے لیے اس پر بحث کرنے کا حق ہے اور ایک ممبر کی حیثیث سے ہم بحث کر سکتے ہیں۔“ ان جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتی محمود صاحب یہ نہیں چاہتے تھے کہ جب وہ اپنا موقف پیش کریں تو اس پر کسی قسم کی جرح ہو یا سوال و جوابات کیے جائیں۔اس سے گریز کے لیے انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ وہ جو بھی موقف پیش کر رہے ہیں وہ بقول ان کے امت مسلمہ کا مشترکہ موقف تھا،