دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 57 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 57

57 بد عملوں سے پر ہیز کرتے ہیں ان کی نسبت کیا عقیدہ رکھا جائے“ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷۹) اور اس کا پس منظر یہ تھا کہ بعض فتنہ پردازوں نے یہ خیالات پھیلانے شروع کئے تھے کہ الله نجات کے لئے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ضروری نہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا اور نیک اعمال بجالا نا کافی ہے اور اس اعتراض کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے بغیر اور آپ کی پیروی کیے بغیر اب کسی انسان کے لئے نجات پانا اور اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے۔کسی مخالف یا کسی اسمبلی کو یہ نا گوار گزرتا ہے یا وہ اس کی بنا پر جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔اس مرحلہ پر اپنے موقف میں جان ڈالنے کے لیے مفتی محمود صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کے وہ حوالے پیش کر رہے تھے جن کو کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں قرار دیا جا سکتا۔مفتی صاحب نے جو کہا وہ من و عن درج کیا جاتا ہے۔” اور اپنی کتاب الھدی میں اپنے انکار کوسرکار دو عالم ہے کے انکار کے مساوی قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بد بخت ہیں اورانس وجن میں ان سا کوئی بھی بد طالع نہیں۔ایک وہ جس نے خاتم الانبیاء کو نہ مانا، دوسرا جو خاتم الخلفاء ( یعنی بزعم خود مرزا صاحب) پر ایمان نہ لایا۔(الہدی صفحه؟ دارالامان قادیان ۱۹۰۲ء) اور انجام آتھم میں لکھتے ہیں : اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور ، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘ (انجام آتھم صفحہ ۶۲ مطبوعہ قادیان ۱۹۲۲ء) ( کارروائی صفحه ۱۹۱۲)