دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 56
56 اس کے بعد انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ” حقیقۃ الوحی“ سے حوالہ دے کر دلیل دینے کی ناکام کوشش کی۔اس حوالہ کا لب لباب یہ فقرہ تھا۔جو شخص با وجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔۔۔(روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۶) ملاحظہ کیجیے اس میں کون سی قابل اعتراض بات ہے۔کیا خدا اور آنحضرت ﷺ کے احکام کو مانا ضروری نہیں ہے۔اگر کوئی شخص خدا اور حضرت محمد مدلے کے احکامات کا انکار کرے اور باوجود علم کے نافرمانی کرے تو کیا یہ سمجھا جائے گا کہ وہ حقیقی طور پر خدا اور اس کے رسول کو مانتا ہے۔اس سے یہ کس طرح ثابت ہوتا ہے کہ احمدی اپنے آپ کو ملت اسلامیہ سے وابستہ نہیں سمجھتے۔مفتی محمود صاحب عالم کہلاتے تھے۔وہ کیا یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا (النساء: ۱۵) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے تو وہ اسے ایک آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ایک لمبے عرصے تک رہنے والا ہوگا اور یہی مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرمارہے ہیں۔جماعت احمدیہ کے مسلک کی بنیاد تو قرآن مجید ہے۔مخالفین اگر اس کے برخلاف کوئی عقیدہ رکھنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی۔لیکن ایک اور امر کا ذکر ضروری ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف حقیقۃ الوحی کے جس حصہ کے حوالے مفتی محمود صاحب سنا کر اعتراضات اُٹھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو امت محمدیہ سے علیحدہ کیا ہے آخر وہاں کیا مضمون بیان ہو رہا تھا۔وہاں ایک اعتراض کا طویل جواب دیا جار ہا تھا اور وہ اعتراض یہ تھا۔جن لوگوں نے نیک نیتی کے ساتھ آنحضرت کا خلاف کیا یا کرتے ہیں یعنی آنجناب کی رسالت کے منکر ہیں اور توحید الہی کے قائل ہیں نیک اعمال بجالاتے ہیں اور