دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 58
58 اگر ایک گروہ ایک شخص کو مامورمن اللہ مجھتا ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ اگر ایک شخص اللہ تعالی کی طرف سے اذن پا کر اس منصب پر فائز کیا گیا ہے اور ایک گروہ یا شخص اس مامور کی تکذیب کرتا ہے اور اس کی دشمنی پر کمر بستہ ہو جاتا ہے اور اس کے خلاف کفر کے فتوے دیتا ہے تو اس پر ایمان لانے والوں کے نزدیک انہیں بدبخت نہیں سمجھا جائے گا تو کیا نیک بخت اور پارسا شمار کیا جائے گا اور کیا اس کا دشمن جنتی اور متقی کہلائے گا۔ایک نبی اور مامور من اللہ کا ذکر تو کیا ایک ولی اللہ کی دشمنی بھی انسان کو خدا کا دشمن اور بد بخت بنادیتی ہے۔یہ ممکن نہیں کہ مفتی محمود صاحب اس مشہور حدیث سے بھی بے خبر ہوں کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ولی سے دشمنی رکھی تو وہ خدا تعالیٰ سے جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔ایسا گروہ یا ایسا شخص جو خدا تعالیٰ سے جنگ کر رہا ہو وہ کیا جنتی اور نیک بخت ہوگا۔مفتی محمود صاحب جعلی حوالوں کا سہارا لیتے ہیں اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب نے آئینہ صداقت اور کلمتہ الفصل کے وہ حوالے پیش کیے جو کہ سوالات کے دوران بھی پیش کیے گئے تھے اور جن کا کافی جواب حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے دے دیا تھا۔ان حوالوں پر بحث گزشتہ کتاب میں گزر چکی ہے اس لیے یہاں نہیں دہرائی جائے گی لیکن ایک بات قابل غور ہے کہ چونکہ سب جانتے تھے کہ ان حوالوں پر اعتراضات کا جواب پہلے ہی گزر چکا ہے اس لیے اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب نے اس ضمن میں کچھ مزید حوالے دینے کی کوشش کی اور اس کے لیے یہ طریقہ کا راختیار کیا۔انہوں نے ایک عبارت پڑھی اور اس کا یہ حوالہ پیش کیا: اخبار بدر ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ء منقول از مجموعه فتاوی احمد یه صفحه ۳۰۷ ج اول ( کارروائی صفحہ نمبر ۱۹۱۳) اس حوالے کی حقیقت یہ ہے کہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ء کے البدر میں وہ عبارت موجود نہیں جس کا حوالہ دیا جا رہا تھا اور مجموعہ فتاوی احمد یہ جلدا کے کل ۱۸۴ صفحات ہیں اور مفتی محمود صاحب اس کے صفحہ نمبر ۳۰۷ کا حوالہ دے رہے تھے۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے ایک عبارت پڑھی اور اس کا یہ حوالہ پیش کیا۔