دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 48 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 48

48 فرمایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اعلیٰ روحانی مدارج کی ترقی تو ایک جاری امر ہے اور آپ علی کی وفات کے بعد یہ عمل رکا نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کا روحانی مرتبہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔یہاں تو آنحضرت ﷺ کے بلند مقام کا بیان ہو رہا ہے۔خدا جانے مفتی محمود صاحب نے یہ خلاف عقل نتیجہ کس طرح نکال لیا کہ یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مرتبہ آنحضرت ﷺ سے بلند تھا۔امر واقعہ ہے کہ مفتی محمود صاحب اور بیشتر مخالفین کا یہ عقیدہ ہے کہ اس دور میں صرف حضرت عیسی علیہ السلام زندہ نبی ہیں اور ان کی دوسری آمد سے اب دنیا کی اصلاح وابستہ ہے۔جماعت احمدیہ کا عقیدہ اس سے بالکل مختلف ہے اور وہ عقیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: سو ہم اپنے خدائے پاک ذوالجلال کا کیا شکر کریں کہ اس نے نبی محمد مصطفے مت ہے کی محبت اور پیروی کی توفیق دے کر اور پھر اس محبت اور پیروی کے روحانی فیضوں سے جو سچی تقویٰ اور سچے آسمانی نشان ہیں کامل حصہ عطا فرما کر ہم پر ثابت کر دیا کہ وہ ہمارا پیارا برگزیدہ نبی ﷺ فوت نہیں ہوا بلکہ وہ بلند تر آسمان پر اپنے ملیک مقتدر کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔اب ہمیں کوئی جواب دے کہ روئے زمین پر یہ زندگی کسی نبی کے لئے بجز ہمارے نبی ﷺ کے ثابت ہے۔کیا حضرت موسی کے لئے ؟ ہر گز نہیں۔کیا حضرت داؤد کے لئے ؟ ہر گز نہیں۔کیا حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے ؟ ہر گز نہیں۔کیا راجہ رامچند ریا راجہ کرشن کے لئے ؟ ہر گز نہیں۔کیا وید کے ان رشیوں کے لئے جن کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے دلوں پر وید کا پر کاش ہوا تھا ؟ ہر گز نہیں۔“ 66 تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۹،۱۳۸) یہ لطیف مضمون یہیں پر ختم نہیں ہو جا تا بلکہ حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں کہ اب جو فضیلت جو فیض اور جو معرفت ملے گی وہ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ملے گی۔آپ آنحضرت علی کے بارے میں فرماتے ہیں: