دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 47
47 ارشاد کا ذکر کرتے ہوئے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے فرزند ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے ، لکھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قول خاتم النبیین کے خلاف نہیں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو کہ آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔( موضوعات کبیر مصنفہ ملاعلی قاری مطبع المطبائے دہلی صفحہ ۵۹) مفتی محمود صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کا حوالہ پیش کرتے ہیں : مفتی محمود صاحب خلاف واقعہ عقائد کو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کر رہے تھے اور یہ وہی الزامات تھے جو کہ سوال و جواب کے دوران پیش کیے گئے تھے اور جن کا رڈ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بیان فرما دیا تھا۔اب مفتی محمود صاحب انہی الزامات کو دہرا ر ہے تھے لیکن اپنے دلائل میں جان ڈالنے کے لیے وہ اس بات پر مجبور تھے کہ ایک بار پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کو پیش کریں۔پہلے پیش کردہ حوالے تو غلط نکلے تھے۔انہوں نے خطبہ الہامیہ کا یہ حوالہ پڑھا۔" جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سال سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سال سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقوی اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں کی رات کے چاند کی طرح ہے اور اس لئے ہم تلوار اور لڑنے والے گروہ کے محتاج نہیں اسی لیے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لیے صدیوں کے شمار کو رسول کریم ﷺ کی ہجرت سے بدر کی راتوں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا تا وہ شمار اس مرتبہ پر جو ترقیات کے تمام مرتبوں سے کمال نام رکھتا ہے دلالت کرے۔“ (روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۱ تا ۲۷۳) یہ حوالہ پیش کر کے مفتی محمود صاحب نے ان الفاظ میں یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی کہ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کا بروزی طور پر آنحضرت علی سے بڑھ جانا خود مرزا صاحب کا عقیدہ تھا۔“ صلى الله (صفحه کارروائی ۱۹۰۵) پڑھنے والے خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ خطبہ الہامیہ کے مذکورہ حوالے میں تو یہ مضمون بیان