دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 206
206 زیادہ گھڑ دوڑ کے ٹورنامنٹ منعقد کرائے جا سکتے ہیں یا پولو اور نیزہ بازی کی ٹیمیں تیار کی جاسکتی ہیں لیکن حیرت ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک بھی ایسا رجل رشید موجود نہیں تھا جو اس بات کی نشاندہی کر سکتا۔ذرا ملاحظہ کریں کہ مفتی صاحب اور ان کے ہمنوا یہ الزام لگا رہے ہیں کہ احمدی پاکستان میں بغاوت کر کے اپنی علیحدہ ریاست بنانے کی سازش کر رہے ہیں اور اس کا ثبوت کیا پیش کیا کہ احمدی دس ہزار گھوڑے پال رہے ہیں۔صحیح یا غلط ہونے کا سوال نہیں اس قسم کی کارروائی کو سنجیدہ کا رروائی بھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جماعت احمدیہ سے سوال و جواب کے دوران مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنو اگر وہ کو جس خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے بعد انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ اُس وقت اپنے دلائل پیش کیے جائیں جب جماعت احمدیہ کا وفد موجود نہ ہو اور اس طرح کوئی اس بات کی نشاندہی نہیں کر سکے گا کہ جعلی اور خود ساختہ حوالے پیش کیے جارہے ہیں۔اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب نے رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب کا یہ حوالہ پڑھا: ۵۳ ء کے فسادات پنجاب کی افسوس ناک صورت ایسے مطالبات ہی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی جس میں سواد اعظم نے دیگر مطالبوں کے علاوہ سر ظفر اللہ اور دیگر مرزائیوں کا کلیدی مناصب سے علیحدگی پر زور دیا گیا تھا مگر ہم ان کے بیرونی آقاؤں مغربی سامراج کے ہاتھوں اتنے بے بس ہو چکے تھے کہ سینکڑوں مسلمانوں کی شہادت کے بعد بھی اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے سر ظفر اللہ کی علیحدگی کے بارہ میں یہ قطعی رائے ظاہر کی کہ وہ اس اہم معاملہ میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔“ (منیر انکوائری رپورٹ صفحہ ۳۱۹) حقیقت یہ ہے کہ یہ معین الفاظ اس رپورٹ کے صفحہ ۳۱۹ پر موجود نہیں ہیں۔وہاں صرف یہ لکھا ہے مولوی مرتضی احمد میکش نے کچھ اور مولوی صاحبان کے ہمراہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب سے ملاقات کی۔جب اس مطالبہ کا ذکر آیا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو وزارت خارجہ سے بر طرف کیا جائے تو اس کے جواب میں خواجہ ناظم الدین صاحب جو کہ ملک کے وزیر اعظم تھے اور