دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 207 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 207

207 قانون کی رو سے ان کا اختیار تھا کہ وہ کسی وزیر کو برطرف کریں یا نہ کریں یہ جواب دیا کہ وہ اس بارے میں کوئی کاروائی نہیں کریں گے۔اس رپورٹ میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ یہ سب کچھ بیرونی آقاؤں یا مغربی سامراج کے کہنے پر ہو رہا تھا۔یہ الزام بھی جھوٹ پر مبنی تھا اور اصل میں یہ الزام احمدیوں پر یا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر نہیں بلکہ پاکستان پر اور پاکستان کے منتخب وزیر اعظم پر لگایا جا رہا تھا کہ وہ اہم فیصلے ملک کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کرتے تھے۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے ثبوت کے طور پر الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۵۲ء کے دو حوالے پیش کیے۔ان میں سے پہلا حوالہ جو کہ ایک خطبہ جمعہ کا ہے، اس خطبہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا تھا کہ احمدی نوجوان بے تحا شا فوج میں ملازمت اختیار کر رہے ہیں۔انہیں دوسرے پیشوں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے اور اس ضمن میں حضور نے فرمایا تھا کہ فائنانس کا شعبہ ہے، مختلف قسم کی ٹھیکیداریاں ہیں جن کی بیسیوں اقسام ہیں اور ڈاکٹری ہے اور وکالت ہے۔کچھ سمجھ میں نہیں آتی کہ مفتی محمود صاحب کو اس خطبہ جمعہ میں سازش کہاں سے نظر آ گئی بلکہ اس کو مکمل طور پر پڑھ کر تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ کسی قسم کی سازش نہیں ہو رہی تھی ورنہ سب کو یہی تلقین کی جاتی کہ تم فوج میں ہی شامل ہو۔حقیقت یہ ہے کہ ہر معاشرے میں نو جوانوں کو قومی ضرورت اور اپنے رحجان کے تحت مختلف شعبوں میں جانا چاہیے۔اگر ایک معاشرے میں نوجوان اپنا طمح نظر ایک ہی شعبہ کو بنائے بیٹھے ہوں تو اس سے ترقی نہیں ہو سکتی بلکہ مسائل ہی پیدا ہوں گے۔پھر مفتی محمود صاحب نے اسی شمارے کا ایک اور جعلی حوالہ پیش کیا۔”مرزائی ملازمین منظم صورت میں اپنے محکموں میں مرزائیت کی تبلیغ کریں۔“ ( کارروائی صفحہ ۷ ۲۰۸) حقیقت یہ ہے کہ اس شمارے میں یہ جملہ کہیں نہیں شائع ہوا تھا جبکہ کاروائی کی اشاعت میں یہ الفاظ قوسین میں درج ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس وقت یہ الفاظ اس طرح پیش کیے گئے تھے کہ یہ معین الفاظ الفضل میں شائع ہوئے تھے۔