دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 205 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 205

205 اس سے پہلے ۱۴ فروری ۱۹۲۲ء کو الفضل میں خلیفہ محمود احمد کی یہ تقریر شائع ہوئی۔ہم احمدی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“ پہلی بات تو یہ ہے کہ جیسا کہ ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں ،۱۹۲۲ء میں ہندوستان پر اور آدھی دنیا پر برطانیہ کا قبضہ تھا اور باقی دنیا کا اکثر حصہ بھی یوروپی طاقتوں کے قبضہ میں تھا۔اگر ایسا اعلان کیا جارہا تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ برطانیہ اور دوسری یوروپی طاقتوں کے خلاف اعلان جنگ کیا جا رہا تھا۔اس میں پاکستان کے خلاف سازش کا ثبوت کہاں سے نکل آیا اور دوسری دلچسپ بات یہ کہ جس روز کے الفضل کا حوالہ دیا گیا اس روز الفضل شائع نہیں ہوا تھا۔یہ ایک جعلی حوالہ پیش کیا جارہا تھا۔پھر انہوں نے جسٹس منیر صاحب کی رپورٹ کا ایک حوالہ پیش کیا کہ ۱۹۴۵ء سے ۱۹۴۷ء تک جماعت احمدیہ کی بعض تحریروں سے تاثر ملتا ہے کہ جماعت احمد یہ سلطنت برطانیہ کا جانشین بنے کا خواب دیکھ رہی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں کسی ایک تحصیل میں بھی جماعت احمدیہ کی تعداد کل تعداد کا ایک چوتھائی بھی نہیں تھی۔کانگرس اور مسلم لیگ کی طرف سے آزادی کے بعد کے دور کی تجاویز سامنے آچکی تھیں۔اور ہندوستان کی آزادی اب فیصلہ شدہ امر سمجھا جارہا تھا۔اس دور میں کون ذی ہوش یہ سوچ سکتا تھا کہ انگریز حکومت کے رخصت ہونے کے بعد جماعت احمد یہ ہندوستان پر حکومت کرے گی۔آخر وہ کون سی پر اسرار تحریر ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا۔اس کا حوالہ تو پیش کرنا چاہیے۔مفتی محمود یہ الزام تو لگا رہے تھے کہ جماعت احمدیہ پاکستان کے اندر اپنی سٹیٹ بنا رہے ہیں لیکن اتنی بڑی سازش کو عملی جامہ کیسے پہنایا جا رہا تھا ؟ آخر خالی زبانی باتوں سے یا الفضل میں یہ منصوبہ شائع کرنے سے تو ریاست کے اندر ریاست وجود میں نہیں آ سکتی تھی؟ اس کے لیے کیا تیاری کی جا رہی تھی؟ اس کے بارے میں مفتی محمود صاحب نے پاکستان کے ممبران اسمبلی کے سامنے یہ انکشاف فرمایا کہ مرزا ناصر احمد دس ہزار گھوڑے تیار کر رہے ہیں۔( کارروائی صفحہ ۲۰۸۳) ہم یہ یاد دلاتے جائیں کہ یہ کارروائی بارہ سویا تیرہ سوعیسوی میں نہیں بلکہ ۱۹۷۴ء میں ہورہی تھی۔اس دور میں جب بندوقیں ٹینک ہوائی جہاز اور میزائل موجود ہوں، اگر کوئی دس ہزار گھوڑے یا اس سے بھی کئی گنا زیادہ گھوڑے تیار بھی کر لے گا تو وہ کسی ملک یا شہر پر قبضہ نہیں کر سکتا زیادہ سے