دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 90
90 کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذ باللہ آنحضرت عمر کے صحابہ کی بھی توہین کی ہے اور اس کی تائید میں انہوں نے جو پہلا حوالہ پیش کیا وہ یہ تھا۔جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔‘ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۲۵۸ طبع ربوہ ) ( کارروائی صفحه ۱۹۵۳) اب ملاحظہ کیجیے مفتی محمود صاحب خود اعتراف کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریر میں لکھ رہے ہیں حضرت محمد للہ خیرالمرسلین تھے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء اور تمام انسانوں سے افضل تھے۔یہی ایک تحریر مفتی محمود صاحب کے اس الزام کی تردید کے لیے کافی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ سے افضل قرار دیا ہے۔اگر آنحضرت مہ خیر المرسلین تھے تو انبیاء میں بھی کوئی آپ سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اب ہم اس حوالہ کی حقیقت کی طرف آتے ہیں۔مفتی محمود صاحب مکمل حوالہ نہیں پڑھ رہے تھے کیونکہ اگر اس حوالہ سے پہلے کی چند سطریں پڑھ دیتے تو یہ الزام ویسے ہی غلط ثابت ہو جاتا۔ہم وہ سطریں پیش کرتے ہیں۔اور آخر زمانہ کا آدم در حقیقت ہمارے نبی کریم ﷺ اور میری نسبت اس کی جناب کے ساتھ استاد اور شاگرد کی نسبت ہے۔اور خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ و اخرین منهم لما يلحقوا بهم اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پس اخرین کے لفظ میں فکر کرو۔اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا “ (روحانی خزائن جلد ۶ اصفحہ ۲۵۸،۲۵۷) یہ حوالہ پڑھنے سے سے قبل مفتی محمود صاحب نے یہ کہا تھا کہ یہ حوالے بلا تبصرہ پیش ہیں۔وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے کیونکہ ان پر کوئی تبصرہ کرنے سے حقیقت سامنے آجاتی جو ان کے الزام کی مکمل طور پر تردید کرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا تھا کہ یہ قرآن کریم کی آیات ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: وہی ہے جس نے بھیجا امیوں میں رسول انہی میں سے کہ پڑھتا ہے ان پر اس