دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 89
89 ہمارے نبی کے لئے میری طرح اور بھی بیٹے ہیں اور قیامت تک ہوں گے اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی پس اس سے بڑھ کر اور کونسا ثبوت ہے جو پیش کیا جائے۔(روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۸۳) مفتی محمود صاحب کے ہمنوا احباب کی خدمت میں گزارش ہے کہ ذرا پہلے مصرعہ کی عبارت پڑھ لیں کہ اس میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں سید الوریٰ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انسانوں کے سردار ہیں اور کوئی بھی شخص آپ سے افضل نہیں ہو سکتا اور اب صرف آپ کی روحانی اولاد ہی روحانی مدارج حاصل کر سکتی ہے۔پھر اس کے بعد ایک شعر ہے۔اذا القوم قالوا يدعى الوحى عامدا عجبت فـانـي ظـل بدر ينور یعنی جب قوم نے کہا کہ یہ تو عمد اوحی کا دعویٰ کرتا ہے۔میں نے تعجب کیا کہ میں تو رسول اللہ ی کا فل ہوں۔کوئی بھی ہوشمند یہ نظریہ قبول نہیں کر سکتا کہ ان اشعار میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ سے فضیلت کا دعویٰ کیا ہے۔ان میں تو یہ ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے روحانی اولاد ہونے کے ناطے آنحضرت علیہ سے فیض حاصل کیا ہے اور آپ آنحضرت ﷺ کا سایہ ہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ کسی شخص کا سایہ اس شخص سے افضل ہے۔عقلاً مفتی محمود صاحب کا الزام اس قابل بھی نہیں ہے کہ اسے زیر غور بھی لایا جائے۔صحابہ کی تو ہین کا الزام مفتی محمود صاحب عجلت میں الزامات کی فہرست میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس مصیبت کا سامنا کر رہے تھے کہ جب وہ ایک الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی حوالہ پیش کرتے تو ایسا حوالہ پیش ہو جاتا کہ جس سے گزشتہ الزام کی تردید ہو جاتی اور اس کے بعد وہ ایک اور الزام کی طرف رخ کرتے جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ مفتی محمود صاحب یہ بے بنیادالزام لگا رہے تھے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ سے افضل ہونے کا دعوی کیا ہے۔اب اس کے بعد انہوں نے یہ ثابت کرنے