دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 76 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 76

76 جائیں وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے کہ اگر یہی قرآن کریم میں تحریف ہے تو اس کا الزام تو پھر حضرت سید عبدالقادر جیلانی پر بھی آئے گا۔اگر ظفر انصاری صاحب جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے تو کم از کم مفتی محمود صاحب ہی اپنی اس تقریر میں اس کا جواب دے دیتے۔انہیں تو جواب سوچنے کے لیے کافی وقت بھی مل گیا تھا لیکن مفتی صاحب اور ان کے معاونین بھی اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکے اور صرف وہی اعتراض دہرانے پر اکتفا کی جو پہلے ہی غلط ثابت ہو چکا تھا۔اب ہم حضرت سید عبد القادر جیلائی کا ارشاد پیش کرتے ہیں جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ امت محمدیہ کے اولیاء کے نزدیک یہ بات ہرگز قرآن کریم میں تحریف نہیں تھی کہ اگر اس امت کے بزرگ افراد پر آیت قرآنی الہام ہوں اور وہ آیات قرآنی الہام ہو ں جن میں آ نحضر ت ع ل ل ل ل : دوسرے انبیاء کو مخاطب کیا گیا ہو یا یہ آیات قرآنی ان کی شان کے بارے میں نازل ہوئی ہوں۔حضرت سید عبد القادر جیلائی اللہ تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرنے والوں اور اس کی راہ میں ثابت قدم رہنے والوں کو یہ خوشخبری دیتے ہیں۔اس وقت تو بڑے بادشاہ کے پاس پہنچایا جائے گا اور ان الفاظ میں مخاطب کیا جائے گا انك اليوم لدينا مكين امين 66 ( فتوح الغیب مقاله ۲۸ ناشران تاجران کتب جامع مسجد دہلی ) یہ عربی عبارت قرآن کریم کی آیت ہے جو کہ حضرت یوسف کے بارے میں ہے جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم کے کئی الہامات پڑھ کر سنائے جو کہ آیات قرآنی پر مشتمل تھے اور ان میں وہ آیات کریمہ بھی شامل تھیں جن میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کیا گیا تھا لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ قومی اسمبلی کی طرف سے جو کارروائی اب شائع کی گئی ہے اس میں ان الہامات کی عبارت غائب ہے اور اس کی خالی جگہ چھوڑ کر صرف عربی کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔اسی طرح جہاں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے فتوح الغیب کی عبارت پڑھی ہے وہاں اس کارروائی میں عربی کی اصل عبارت غائب ہے اور صرف چند الفاظ درج ہیں حالانکہ قومی اسمبلی کے قواعد انہیں اس بات کے پابند کرتے ہیں کہ گواہ کا