دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 75
75 جماعت احمدیہ مبایعین سے سوال و جواب کے اجلاسات کے آخری روز تک اٹارنی جنرل صاحب کے پیش کیے گئے سوالات کا وہ انجام ہو چکا تھا کہ یہی مناسب سمجھا گیا کہ اب مولوی ظفر انصاری صاحب میدان میں اتریں اور سوالات کریں۔چنانچہ انہوں نے جو اعتراضات پیش کیے ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کئی قرآنی آیات الہام ہوئیں اور ان میں وہ آیات شامل تھیں جن میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کیا گیا تھا اور مولوی ظفر انصاری صاحب نے یہ الہامات پڑھ کر یہ دعویٰ پیش کیا تھا کہ نعوذ باللہ یہ قرآن کریم میں بہت کھلی تحریف ہے۔( کارروائی صفحہ ۷۵۸ تا۷۶۶) اپنی دانست میں تو مولوی صاحب نے بڑا اعتراض پیش کیا تھا۔اس کے جواب میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے اس اہم بات کی نشاندہی فرمائی کہ امت مسلمہ کا لٹریچر ان روایات سے بھرا ہوا ہے کہ بہت صلحاء امت کو قرآنی آیات الہام ہوئی ہیں اور حضور نے اس ضمن میں مثالیں پیش کرنی شروع کیں۔حضور نے حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے الہامات کی مثالیں بیان فرما ئیں اور عبداللہ غزنوی صاحب کے الہامات کی مثالیں بیان فرما ئیں۔ابھی یہ سلسلہ شروع ہوا تھا کہ سوال کرنے والوں کو یہ احساس ہوا کہ یہ تو الٹا لینے کے دینے پڑگئے ہیں۔اگر یہ قرآن کریم میں تحریف ہے تو اس کا الزام تو بہت سے مسلمہ اولیاء پر بھی آئے گا۔چنانچہ پیکر صاحب نے بات کاٹ کر کہا کہ آپ کا مؤقف کیا ہے؟ اس پر اب شائع ہونے والی کا رروائی کے مطابق حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جو فرمایا و فقل کیا جاتا ہے۔”مرزا ناصر احمد : میں یہ بات accept کرتا ہوں کہ امت مسلمہ کے عام اصول کے مطابق accepted ، قرآن کریم کی آیات امت کے اولیاء پر نازل ہوسکتی ہیں اور جو آیات انہوں نے پڑھی ہیں اگر وہ درست ہیں تو وہ حضرت مرزا صاحب پر نازل ہوئیں۔( کارروائی صفحہ۱۴۶۵) اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اس کی اور مثالیں بیان کرنا ضروری ہے اور مزید مثالیں بیان کیں۔مولوی ظفر انصاری صاحب کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ساری کارروائی پڑھ