دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 74
74 66 قدوسیوں کے ساتھ آیا۔اس کے دہنے ہاتھ پر ان کے لئے آتشی شریعت تھی۔“ اور اس جگہ بائبل میں ”یہواہ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو کہ عبرانی میں خدا تعالیٰ کا اسم ذاتی ہے۔اب اس پیشگوئی میں حضرت محمد مصطفے میلے کے لئے خداوند کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھ سکتا کیونکہ بائبل میں عبرانی زبان میں اس قسم کے استعارے عام استعمال ہوتے تھے۔اگر اس قسم کی پیشگوئی میں ”خداوند کے لفظ پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا تو میکائیل یا خدا کی مانند کے استعارے پر بھی کوئی اعتراض نہیں اُٹھ سکتا۔اور عبرانی کا کیا ذکر خود اردو میں ایسے کئی استعاروں کی مثالیں موجود ہیں۔خاوند کو مجازی خدا کہا جاتا ہے۔کیا یہ شرک یا گستاخی ہے۔صاحبان اقتدار کو ارباب اقتدار کہا جاتا ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الفاظ استعمال کرنے والا شرک کا مرتکب ہورہا ہے۔اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ لفظ میکائیل قرآن کریم میں بھی ایک مقرب فرشتہ کے لیے استعمال ہوا ہے اور عکرمہ کا قول ہے کہ عربی میں جب اس کا لفظی ترجمہ کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب خدا کے عبد کے ہیں۔(صحیح بخاری کتاب التفسير باب قوله من كان عدوا الجبريل) مفتی محمود صاحب کا اعتراض کہ حضرت مسیح موعود کو قرآنی آیات الہام ہو ئیں مفتی محمود صاحب کو مسلسل اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کہ ان کے پاس کرنے کو کوئی نیا اعتراض نہیں تھا۔وہ وہی اعتراضات پیش کرنے پر مجبور تھے جو کہ سوال و جواب کے دوران کیے گئے تھے اور جن کے جوابات پہلے ہی دیے جاچکے تھے۔لیکن مفتی محمود صاحب کے پاس ان نکات کا کوئی جواب نہیں تھا جو کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے بیان فرمائے تھے۔اس کی ایک اور مثال پیش کی جاتی ہے۔مفتی محمود صاحب نے یہ اعتراض پیش کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعوی کیا ہے کہ انہیں کئی قرآنی آیات الہام ہوئیں اور ان میں وہ قرآنی آیات بھی شامل تھیں جن میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کیا گیا تھا اور یہ آیات آپ کی شان میں نازل ہوئی تھیں اور مفتی محمود صاحب نے اسے گستاخی اور قرآن کریم میں تحریف قراردیا۔یہ سوال کوئی نیا سوال نہیں تھا۔