دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 73
73 معروف بزرگوں کی تحریروں میں اس حقیقت کا ذکر ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں ابن اللہ الفاظ کے استعمال ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قدیم زمانہ میں لفظ ابن مقرب اور محبوب اور مختار کے ہم معنی تھا۔“ ( الفوز الکبیر فی اصول التفسیر۔مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔اردو ترجمہ رشید احمد صاحب انصاری۔ناشر قدیمی کتب خانہ کراچی۔صفحہ ۱۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام دانیال نبی کی کتاب کے آخر کا جو حوالہ دے رہے ہیں۔وہ عبارت یوں شروع ہوتی ہے: اس وقت میکائیل مقرب فرشتہ جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لیے کھڑا ہے اُٹھے گا (دانیال باب ۱۲) اس عبارت کا آغاز ہی ظاہر کر رہا ہے کہ میکائیل کا لفظ خدا کے لیے نہیں استعمال ہوا اور نہ پہلے کبھی ہوا تھا۔یہ یا تو فرشتہ کا ذکر ہے اور یا کسی مقدس شخصیت کی بعثت کی خبر دی جا رہی ہے اور عبرانی میں میکائیل کا لفظی مطلب ”خدا کی مانند ہے“ (Harpers Bible Dictionary Edited by Paul J۔Achtemeier Word Michal) اور عبرانی کے استعارہ میں اس کا مطلب صرف برگزیدہ کے ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود لیہ السلام نے مذکورہ حوالہ میں خود واضح بیان فرمایا ہے کہ ان مقدس کتب میں یہ الفاظ بطور استعارہ کے استعمال ہوئے ہیں۔مناسب ہوتا کہ مفتی محمود یہ اعتراض اُٹھانے سے قبل لغت دیکھ لیتے۔استعارہ اسے کہتے ہیں جب ایک لفظ بغیر حرف تشبیہ کے مجازی معنی میں استعمال ہو ( ملاحظہ کیجئے فیروز اللغات لفظ استعارہ)۔اگر قدیم صحف میں اور عبرانی زبان میں اس قسم استعارے استعمال ہوئے ہیں تو اس کا الزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یا جماعت احمدیہ کو بہر حال نہیں دیا جا سکتا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بائبل میں جہاں آنحضرت ﷺ کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہے وہاں آنحضرت علیے کے لیے خداوند کا لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ استثناء باب ۳۳ میں لکھا ہے: ” خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر آشکار ہوا۔وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا اور دس ہزار