دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 42
42 فتویٰ دیا ؟ ہرگز نہیں۔انہوں نے تو تاج برطانیہ کی اطاعت کو مذہبی فریضہ قرار دیا۔شیعہ علماء نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ انگریز حکومت پر اللہ کا شکر کرو اور اس کی اطاعت کرو۔بریلوی مسلک کے قائد احمد رضا خان بریلوی صاحب نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ برطانوی راج میں ہندوستان دارالاسلام ہے۔مسلم لیگ نے بھی اپنا اولین مقصد یہی بیان کیا کہ مسلمانوں میں تاج برطانیہ سے وفاداری کے خیالات میں اضافہ کیا جائے۔ہم ان کے حوالے پہلے ہی درج کر چکے ہیں۔اس پس منظر میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا یہ سب اسلامی شریعت کے منکر تھے؟ کیا یہ سب کسی نئی شریعت کے پیروکار تھے؟ ہرگز نہیں۔اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ان سب کے نزدیک متفقہ طور پر اُس دور میں قتال کے لیے شرعی شرائط پوری نہیں ہوتی تھیں۔اس صورت حال میں جماعت احمدیہ پر مفتی محمود صاحب کا یہ اعتراض بالکل بے معنی تھا اور تو اور اگر مفتی محمود صاحب کے نزدیک اسلامی شریعت میں خمس فئی اور مال غنیمت کے قوانین مرکزی حیثیت رکھتے تھے تو پہلے تو انہیں اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ ۱۹۷۳ء کا آئین تو ان کی تائید کے ساتھ منظور ہوا تھا بلکہ اس کی منظوری پر دعا بھی مفتی صاحب نے کرائی تھی تو اس میں خمس فئی اور مال غنیمت کے قوانین کا تفصیلی تذکرہ کیوں نہ کر دیا گیا۔اس سے گریز کیوں کیا گیا۔مفتی محمود صاحب حیات مسیح کے مسئلہ میں الجھتے ہیں با وجود اس حقیقت کے کہ اس مرحلہ پر جماعت احمدیہ کا وفد کا روائی میں شامل نہیں تھا جو کہ مفتی محمود صاحب یا دیگر مخالفین کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکتا ایک خدشہ مفتی محمود صاحب کو یقینی طور پر لاحق تھا۔سوالات کے دوران حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی طرف سے ایک ایسا نقطہ اُٹھایا گیا تھا جس سے یہ واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ خود جماعت احمدیہ کے مخالفین اور مولوی حضرات آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں سمجھتے۔وہ خود بڑی شد ومد سے اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایک موعود نبی نے آنا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ موعود نبی آنحضرت ﷺ کی امت سے آئے گا ، قرآن کریم کا پیروکار ہوگا اور آنحضرت صلى الله کا روحانی فرزند اور شاگرد ہو گا اور اسے امتی نبوت کا مقام آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے ملے گا اور جس وجود کی آمد کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی تھی وہ آ بھی چکا۔اس کے برعکس جماعت