دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 41
41 تبدیلی مذہب کے لیے حملے نہیں کیے جار ہے اور نہ ہی انہیں اپنے مذہب سے مرتد کرنے کے لیے کوئی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اس لئے اب اس قسم کے قتال کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔اب اسلام دلائل اور روحانی ہتھیاروں سے غالب آئے گا۔اور یہ بات قابل غور ہے کہ کیا مفتی محمود صاحب کے نزدیک حضرت رحمتہ العالمین ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں سے صرف خمس ، مال غنیمت فئی اور جزیہ کے احکامات ہی ایسے تھے جن کا ذکر کیا جائے اور پھر احمدیوں پر یہ الزام لگایا جائے کہ وہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کو آخری شریعت نہیں سمجھتے۔حقیقت یہ ہے کہ اس معین وہم کا جواب حضرت امام جماعت احمدیہ اس سپیشل کمیٹی کے سامنے پہلے ہی بیان فرما چکے تھے۔حضور نے بیان فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو حوالے پیش کئے جارہے ہیں وہ اس دور کے ہیں جب ہندوستان میں تمام مسالک کے علماء یہ فتاویٰ دے رہے تھے کہ اس وقت ہندوستان میں جہاد کی شرائط پوری نہیں ہور ہیں اور اب انگریز حکومت کے خلاف جہاد کرنا معصیت ہے اور ان کی اطاعت کرنا فرض ہے۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے اس ضمن میں مشہور شیعہ عالم علی حائری صاحب اور مشہور اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے فتاویٰ سنائے۔اس وقت اٹارنی جنرل صاحب اتنا پریشان ہو گئے کہ انہوں نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی کہ مجھے تو یہ خوشامدی معلوم ہوتے ہیں۔( کارروائی ۱۱۵۶ تا ۱۱۶۰) یہ دونوں حضرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ کی شدید مخالفت کرتے رہے تھے لیکن نہ تو اس وقت اٹارنی جنرل صاحب اس بات کی وضاحت پیش کر سکے اور نہ ہی مفتی محمود صاحب اس موضوع کو چھیڑنے کی ہمت کر پائے کہ اگر اس وقت برطانوی حکومت کے خلاف جہاد فرض تھا اور اگر اُس حکومت کے خلاف جہاد کی ضرورت سے انکار کیا جائے تو اس کا یہی مطلب ہوگا کہ ایک نئی شریعت بنائی جا رہی ہے تو باقی مسالک سے وابستہ علماء اور عوام کیا کر رہے تھے۔کیا انگریز حکومت کے دور میں دیو بند سے فتویٰ جاری ہوا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرو۔ہر گز نہیں بلکہ علماءِ دیو بند تو انگریز حکومت کے لیے مخبری کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔کیا اہل حدیث علماء نے جہاد کا