دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 43 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 43

43 احمدیہ کے مخالف مولوی حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ ان معنوں میں آخری نبی ہیں لیکن آپ کے بعد ا بھی ایک نبی ضرور آئے گا مگر یہ نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں پیدا نہیں ہوگا بلکہ بنی اسرائیل سے آئے گا۔گویا جب آنحضرت علﷺ کی امت میں ایک امتی نبی کی ضرورت پڑی تو امت محمدیہ میں تو یہ نبی پیدا نہیں ہوا بلکہ بنی اسرائیل کے پرانے انبیاء میں ایک نبی کو مجبوراً واپس آنا پڑا تا کہ امت محمدیہ کی اصلاح کرے۔ان مولوی صاحبان کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک اور نبی تو ضرور آئے گا مگر وہ نبی آئے گا جسے مقام نبوت آنحضرت علﷺ کی اطاعت سے نہ ملا ہو بلکہ وہ نبی آئے گا جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی پیروی سے مقام نبوت ملا تھا۔ہر انصاف پسند محسوس کر سکتا ہے کہ حقیقی طور پر تو احمدی مسلمان ختم نبوت کے قائل ہیں اور یہ مولوی صاحبان آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا انکار کر رہے ہیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے اس مسئلہ کے بارے میں جو دلائل بیان فرمائے تھے ان کے جواب میں مفتی محمود صاحب جو کہہ پائے وہ درج کیا جاتا ہے۔مفتی محمود صاحب نے کہا یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور نزول ثانی کے عقیدہ کو عقیدہ ختم نبوت سے متضاد قرار دینا اسی غلط بحث کا شاہکار ہے جسے احادیث میں مدعیان نبوت کے دجل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ختم نبوت کی آیات اور احادیث کو پڑھ کر ایک معمولی سمجھ کا انسان بھی وہی مطلب سمجھے گا جو پوری امت نے اجماعی طور پر سمجھے ہیں یعنی یہ کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا اس سے یہ نرالا نتیجہ کوئی ذی ہوش نہیں نکال سکتا کہ آپ کے بعد پچھلے انبیاء علیہم السلام سے نبوت چھن گئی ہے یا پچھلے انبیاء میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔‘ ( کارروائی صفحہ ۱۸۹۷) اب مفتی محمود صاحب ان دلائل کا حوالہ دے رہے تھے جو وہ پیش ہی نہیں کر سکے تھے جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اپنی تقریر کے آغاز میں مفتی محمود صاحب نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات مسئلہ ختم نبوت پر ان کے عقیدہ کی تصدیق کرتی ہیں لیکن وہ ایک بھی آیت پیش نہ کر سکے اور نہ ہی آیت خاتم النبین یعنی سورۃ احزاب آیت ۴۱ کے بارے میں محضر نامہ میں جماعت احمد یہ