دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 208 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 208

208 مفتی محمود صاحب ایک بے بنیاد الزام لگا بیٹھے تھے اب یہ تعین کرنا ضروری تھا کہ قادیانیوں نے جو ریاست کے اندر ریاست بنانی تھی و آخر کہاں بنی تھی۔آخر اس سازش کا مرکز کہاں ہونا تھا۔پہلے تو اس سلسلہ میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ یہ فرضی اور خیالی ریاست بلوچستان میں بنی تھی۔اس سلسلہ میں انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ایک خطبہ جمعہ کا حوالہ پیش کیا۔یہ خطبہ جمعه ۱۳ را گست ۱۹۴۸ء کو کوئٹہ میں دیا گیا تھا۔اس میں کسی ریاست بنانے کا ذکر نہیں تھا نہ کسی جگہ پر حکومت بنانے کا کوئی ذکر تھا۔یہ خطبہ جمعہ تبلیغ کے موضوع پر تھا اور صرف پاکستان میں نہیں بلکہ مشرقی اور مغربی افریقہ میں بھی تبلیغ کے بارے مختلف ہدایات دی گئی تھیں۔اس میں حضور نے یہ فرمایا تھا کہ تبلیغ کا کام بھی کسی جگہ کو Base بنا کر کیا جاتا ہے۔اس سلسلہ میں حضور نے بلوچستان کی مثال بھی دی تھی کیونکہ یہ خطبہ بلوچستان میں دیا جا رہا تھا۔حضور نے صرف بلوچستان کی تخصیص نہیں فرمائی تھی بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کسی ملک کو Base بنا لو یا کسی چھوٹے جزیرہ کو Base بنا کر تبلیغ کا کام منظم انداز میں کرو۔یہ الزام اس لیے بھی خلاف عقل تھا کیونکہ جب کوئی گروہ سازش تیار کرتا ہے تو اسے اخبارات میں شائع نہیں کروا تا کہ حکومت کو اس کی خبر نہ ہو جائے۔البتہ یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا بلوچستان کے بارے میں کسی گروہ کے اس قسم کے خیالات تھے کہ اس صوبہ کو اپنے قبضہ میں لیا جائے۔بعد کے حالات نے یہ ظاہر کیا کہ بلوچستان کے بارے میں اس قسم کے منصوبے شدت پسند گروہوں نے بنائے تھے جیسا کہ سلیم شہزاد صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں Al-Qaedas dialectical process aimed to create a situation where Pakistan would remain un-governable until Al-Qaedas ideologues and fighters successfully seize control of two provinces, Khyber Pakhtoonkhwa and Baluchistan۔(Inside Al-Qaeda and Taliban, by Syed Saleem Shehzad,