دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 209 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 209

209 published by Plato Press 2011,p175) ترجمہ القاعدہ کا طمح نظر یہ تھا کہ پاکستان میں ایسی صورت پیدا کی جائے کہ کوئی حکومت مستحکم نہ رہ سکے یہاں تک کہ القاعدہ کے نظریاتی قاعدین اور لڑنے والے دوصو بوں یعنی خیبر پختو نخواہ اور بلوچستان کا کنٹرول حاصل نہ کر لیں۔بلوچستان کا ذکر ختم ہوتے ہی مفتی محمود صاحب نے خود اپنے الزام کی تردید کر دی اور ایک اور دعویٰ پیش کر دیا کہ قادیانی یہ فرضی ریاست کشمیر میں بنانا چاہتے تھے اور اس کے ثبوت کے طور پر یہ حوالہ پیش کیا : (الف) قادیان ریاست جموں و کشمیر کا ہم آغوش ہے جو ان کے پیغمبر“ کا مولد 66 دار الامان اور مکہ و مدینہ کا ہم پلہ بلکہ ان سے بھی افضل قرار دیتے ہیں۔“ الفضل ۱۱ دسمبر ۳۲ - تقریر مرزا محمود احمد صاحب و حقیقۃ الرؤیا صفحه ۱۴۶ از مرزا محمود) اوّل تو اس حوالے میں کہیں پر ریاست کشمیر کے اندر کوئی ریاست بنانے کا ذکر تک نہیں ہے۔دوسرے الفضل کی مذکورہ اشاعت میں یہ جملہ شائع بھی نہیں ہوا اور نہ ہی حقیقتہ الرؤیا میں صفحہ ۴۶ پر یہ عبارت موجود ہے۔یہ ایک اور جعلی حوالہ پیش کیا گیا تھا۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ الزام لگایا کہ قادیانیوں نے اپنی متوازی فوجی تنظیم فرقان بٹالین، قائم کی تھی۔یہ بھی ایک لغو الزام تھا۔پاکستان بننے کو فوراً بعد پاکستان کو اپنی حفاظت کے لیے رضا کاروں کی ضرورت تھی کیونکہ وسائل کی شدید کمی تھی اور اس غرض کے لیے پاکستانی احمدیوں نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور یہ حکومت پاکستان کی تحریک پر ہوا تھا اور یہ بٹالین افواج پاکستان کے ماتحت ان کی ہدایات پر کام کر رہی تھی جماعت احمدیہ کے نظام کے تحت کام بھی نہیں کر رہی تھی اور اس بٹالین نے اس پر آشوب دور میں اپنے وطن کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور حکومت پاکستان نے جن رضا کار دستوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا یہ بٹالین بھی اعزاز کے ساتھ ختم کر دی گئی اور اس مرحلہ پر پاکستان آرمی کے کمانڈرانچیف نے شکر یہ ادا کیا تھا۔انہوں نے لکھا: کشمیر میں محاذ کا ایک اہم حصہ آپ کے سپرد کیا گیا۔اور آپ نے ان تمام