دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 203 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 203

203 اب مفتی محمود صاحب اپنی تقریر کے بالکل اختتام پر پہنچ رہے تھے۔انہوں نے نفرت انگیزی کے کام کو مکمل کرنے کے لیے یہ الزامات لگائے۔1۔جماعت احمدیہ پاکستان کے اندر ریاست کے اندر ریاست بنانے کے منصوبے بنا رہی ہے اور اس غرض کے لیے اہم محکموں میں اہم منصبوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔2۔جماعت احمدیہ پاکستان کے اندر متوزی نظام حکومت بنانے کے لیے کوشاں ہے۔3۔جماعت احمدیہ نے پاکستان کے اندر متوازی فوج بھی قائم کر رکھی ہے۔( کارروائی صفحه ۴ ۲۰۸ تا ۲۰۹۴) پہلا سوال یہ ہے کہ اگر یہ لغو الزامات درست تھے تو ان کا حل یہ تو بہر حال نہیں تھا کہ جماعت احمدیہ کو قومی اسمبلی غیر مسلم قرار دینے کی کارروائی شروع کر دے۔اس کی بجائے پہلا کام حکومت کا یہ ہونا چاہیے تھا کہ قانون کو حرکت میں لائے اور عدالتوں میں جماعت احمدیہ کے ملزم افراد کے خلاف مقدمہ قائم کر کے انہیں سزا دی جائے لیکن نہ اس سے قبل ایسا کیا گیا اور نہ اس کے بعد ایسا کیا گیا کیونکہ ان الزامات کے کوئی ثبوت موجود ہی نہیں تھے اور ان کی کوئی حقیقت نہیں تھی اور ایک محب وطن جماعت کے خلاف یہ الزامات ثابت کرنا ایک ناممکن بات تھی۔اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ مولوی مفتی محمود صاحب نے ان سنسنی خیز الزامات کے کیا ثبوت پیش کیے۔سب سے پہلے تو موصوف نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا یہ حوالہ پیش کیا: د نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ہمیں اپنی 66 طرف سے تیار رہنا چاہیے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“ (الفضل ۲۷ فروری، ۲۹/ مارچ ۲۲ء) ملاحظہ کیجیے کہ الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ قادیانی انگریزوں کے ایجنٹ تھے اور ان کے لیے کام کرتے تھے اور ان کے اقتدار کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لیے کوشاں تھے اور جب پاکستان بن گیا تو انہوں نے پاکستان کے اندر اپنی سٹیٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنالیا اور اس الزام کی تائید میں حوالہ ۱۹۲۲ء کا پیش کیا جا رہا ہے۔۱۹۲۲ء میں تو پاکستان کا ابھی تصور بھی پیش نہیں ہوا تھا ، پاکستان کے خلاف سازش کہاں سے تیار ہوگئی؟ اور ظاہر ہے کہ برطانوی حکومت کے دور میں مذکورہ عبارت۔