دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 204 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 204

204 سے تو برطانوی حکومت اگر کوئی نتیجہ نکال سکتی تھی تو یہی نکال سکتی تھی کہ ان کے خلاف کوئی سازش تیار کی جارہی ہے۔یہ عبارت حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ایک خطبہ جمعہ سے لی گئی تھی جو کہ اس وقت دیا گیا تھا جب کہ برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ ویلز ہندوستان کے دورہ پر آئے تھے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے تبلیغ کے لیے ایک کتاب ” تحفہ شہزادہ ویلز بھی پیش کی گئی تھی۔اس خطبہ میں حضور نے فرمایا : اسی طرح جو تغیرات اسلام اور سلسلہ کے لیے مضر نظر آتے ہیں۔یہ اس لئے ہیں کہ دنیا کو تمام طرفوں سے تھکا کر خدا تعالیٰ اسلام کی طرف لے آئے اور دنیا دیکھ لے کہ اس نے جو راستے اپنی نجات کے لیے بنائے تھے وہ دراصل ہلاکت کی طرف جاتے تھے۔۔۔پس دنیا آئے گی اور یقینا سب طرف سے تھک کر ادھر آئے گی۔“ الفضل ۲۷ فروری و ۲ / مارچ ۱۹۲۲ء) اس کے بعد یہ ذکر کر کے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ تغیرات کے نتیجہ میں بہر حال اسلام کی طرف آئے گی اور اس لیے ہمیں دینی علم حاصل کرنا چاہیے کہ جب بھی دنیا کی طرف اسلام کا رجوع ہو ہم اسے اسلام سکھاسکیں حضور نے فرمایا تھا: تم نے دنیا کو ادھر نہیں لانا بلکہ لانے والا خدا ہے۔اس لئے تمہیں آنے والوں کا معلم بننے کے لیے ابھی سے کوشش کرنی چاہیے۔“ اس ساری عبارت میں کہیں دنیا وی حکومتوں پر قبضہ کرنے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ دنیا کے اسلام قبول کرنے اور ان کو اسلام سکھانے کی بات ہو رہی تھی اور وہ بھی اس وقت جب دنیا پر پادریوں کی یلغار تھی اور اس وقت برطانیہ کا ولی عہد ہندوستان کا دورہ کر رہا تھا۔یہ آواز دیو بند یا کسی اور مدرسہ سے بلند نہیں ہو رہی تھی بلکہ قادیان سے بلند ہورہی تھی اور اس میں دیئے گئے اس بیان سے اگر کسی کو تشویش ہونی چاہیے تھی تو سب سے زیادہ سلطنت برطانیہ کو ہونی چاہیے تھی کیونکہ اس وقت نہ صرف ہندوستان میں بلکہ آدھی دنیا پر ان کی حکومت تھی۔مفتی صاحب نے یہ عجیب سلسلہ اسی حوالہ پر ختم نہیں کیا بلکہ پھر یہ حوالہ پیش کیا: